Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / سیما آندھرا میں کانگریس پارٹی کی حالت ابتر

سیما آندھرا میں کانگریس پارٹی کی حالت ابتر

حیدرآباد ۔19 ۔ مارچ (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کانگریس پارٹی سیما آندھرا میں اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ سابق وزراء ، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور سینئر قائدین روزانہ پارٹی چھوڑ کر وائی ایس آر کانگریس یا تلگو دیشم کا رخ کر رہے ہیں۔ اب جبکہ مجالس مقامی کی انتخابی مہم عروج پر ہے، کانگ

حیدرآباد ۔19 ۔ مارچ (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کانگریس پارٹی سیما آندھرا میں اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ سابق وزراء ، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور سینئر قائدین روزانہ پارٹی چھوڑ کر وائی ایس آر کانگریس یا تلگو دیشم کا رخ کر رہے ہیں۔ اب جبکہ مجالس مقامی کی انتخابی مہم عروج پر ہے، کانگریس پارٹی اپنے بہتر مظاہرہ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے کیونکہ مجالس مقامی کے نتائج کا اثر یقینی طور پر اسمبلی اور لوک سبھا کے نتائج پر پڑے گا۔ صدر آندھراپردیش پردیش کانگریس کمیٹی ایم رگھو ویرا ریڈی نے سیما آندھرا کے دیگر قائدین کے ساتھ مجالس مقامی چناؤ کی مہم کی تاریخیں طئے کردیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ریاست کی تقسیم کے بعد سیما آندھرا میں کانگریس پارٹی کو امیدواروں کی قلت کا سامنا ہے۔

پارٹی سے وابستگی کے باوجود مقامی سطح کے قائدین بھی مجالس مقامی کے چناؤ میں حصہ لینے سے انکار کرچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر اضلاع میں مجالس مقامی کی تمام نشستوں کیلئے کانگریس اپنے امیدوار کھڑا کرنے میں ناکام رہی۔ 120 سالہ تاریخ رکھنے والی کانگریس پارٹی کو سیما آندھرا میں پہلی مرتبہ اس طرح کی ہزیمت کا سامنا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ اضلاع ، اننت پور، کڑپہ ، چتور ، کرنول ، مشرقی و مغربی گوداوری ، پرکاشم ، سریکا کولم اور وشاکھاپٹنم میں بلدیات کے تمام وارڈس پر کانگریس اپنے امیدوار کھڑا کرنے میں ناکام رہی ۔ خود رگھو ویرا ریڈی کے ضلع اننت پور میں منسٹر وارڈس کی جملہ نشستیں 323 ہیں جن میں 127 نشستوں پر کانگریس کا کوئی امیدوار نہیں۔

اسی طرح کڑپہ کے 186 وارڈس میں 126 پر کانگریس اپنے امیدوار تیار نہ کرسکی۔ چتور کے 169 وارڈس میں 86 ، کرنول کے 239 وارڈس میں 69 ، مشرقی گوداوری کے 764 وارڈس میں 614 ، مغربی گوداوری کے 241 وارڈس میں 198 ، پرکاشم کے 145 وارڈس میں 77 ، سریکا کولم کے 91 وارڈس میں 13 اور وشاکھاپٹنم میں 51 وارڈس میں 44 نشستوں پر کانگریس کا کوئی امیدوار نہیں ہے۔ مجالس مقامی کے چناؤ میں کانگریس کی یہ ابتر صورتحال کانگریس ہائی کمان اور سیما آندھرا قائدین کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ مرکزی وزارت میں شامل سیما آندھرا قائدین اور ریاست کی تقسیم کی تائید کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کو عوامی برہمی کا سامنا ہے۔ اب جبکہ سیما آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی نے بس یاترا کے ذریعہ سیما آندھرا اضلاع میں پارٹی کے موقف کو بہتر بنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان قائدین کی کوششیں کس حد تک بارآور ثابت ہوں گی۔

TOPPOPULARRECENT