Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / سیما آندھرا میں کانگریس کے وجود کو برقرار رکھنے جدوجہد کا سامنا

سیما آندھرا میں کانگریس کے وجود کو برقرار رکھنے جدوجہد کا سامنا

تقسیم ریاست کے بعد کمزور موقف ، کئی قائدین کی دیگر پارٹیوں میں شمولیت ، 100 نئے چہروں کی پہلی مرتبہ قسمت آزمائی

تقسیم ریاست کے بعد کمزور موقف ، کئی قائدین کی دیگر پارٹیوں میں شمولیت ، 100 نئے چہروں کی پہلی مرتبہ قسمت آزمائی
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعد سیما آندھرا میں کانگریس پارٹی کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ کانگریس کے کمزور موقف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے بیشتر سینئر قائدین نے تلگو دیشم یا پھر وائی ایس آر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ مجوزہ انتخابات میں کانگریس پار ٹی کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والوں کی تلاش کرنی پڑی کیونکہ کئی سینئر قائدین نے پارٹی کے کمزور موقف کو دیکھتے ہوئے انتخابات سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے سیما آندھرا کیلئے 140 اسمبلی امیدواروں کی فہرست جاری کی جس میں تقریباً 100 امیدوار نئے چہرے ہیں جو پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سیما آندھرا میں کانگریس کو اپنے وجود کی برقراری کیلئے جدوجہد کا سامنا ہے۔ پارٹی کے علاقائی صدر رگھو ویرا ریڈی نے اگرچہ یہ دعویٰ کیا کہ 175 اسمبلی نشستوں کیلئے 1650 سے زائد درخواستیں وصول ہوئیں لیکن امیدواروں کے اعلان کے بعد اندازہ ہوا کہ درخواست گزار کس نوعیت کے تھے۔ سینئر قائدین کی عدم دلچسپی کے باعث ہر اسمبلی حلقہ میں موجود جونئیر قائدین اور کارکنوں نے اسمبلی ٹکٹ کیلئے درخواستیں داخل کیں اور پارٹی کو مجبوراً ایسے امیدواروں کو ہی ٹکٹ دینا پڑا۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ

اس مرتبہ امیدواروں کو انتخابی میدان میں اترنے کیلئے راغب کرنے قائدین کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ سیما آندھرا میں پارٹی کی انتخابی مہم کے انچارج میگا اسٹار چرنجیوی نے اعتراف کیا کہ سیما آندھرا میں پارٹی کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ کانگریس نے بی فارمس کی اجرائی کے موقع پر پہلی مرتبہ ایسا دیکھا گیا کہ بی فارم پر ایک کے بجائے دو نام تحریر کئے گئے تاکہ اصلی امیدوار کے لمحہ آخر میں دوسری پارٹی میں شرکت کی صورت میں ڈمی امیدوار کو پارٹی امیدوار کا موقف حاصل ہو۔ بی فارم کی اجرائی کے موقع پر امیدواروں کو پارٹی سے وفاداری کا بھی حلف دلایا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی نے سیما آندھرا میں اپنے کمزور موقف کو چھپانے کے لئے کسی طرح جونیئر ٹیم کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے راضی کرلیا۔ ساتھ ہی ساتھ امیدواروں کو انتخابی مہم کیلئے بھاری فنڈ فراہم کرنے کا بھی تیقن دیا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کئی امیدوار تو ایسے ہیں جنہوں نے پارٹی فنڈ کی لالچ میں کانگریس کی امیدواری کو قبول کرلیا۔ کانگریس میں برقرار رہنے والے اکثر قائدین نے خود مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے بچوں کو میدان میں اتارا ہے۔

TOPPOPULARRECENT