Saturday , June 23 2018
Home / کھیل کی خبریں / سیمی فائنل سے قبل ہندوستان کو 5 خامیوں پر قابو پانا ناگزیر

سیمی فائنل سے قبل ہندوستان کو 5 خامیوں پر قابو پانا ناگزیر

میرپور ۔ یکم ؍ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہندر سنگھ دھونی کی زیرقیادت ہندوستانی ٹیم جس میں 2007ء میں آئی سی سی کی جانب سے متعارف کردہ ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ خطاب حاصل کرنے کے بعد اس مرتبہ بھی وہ خطاب سے صرف دو فتوحات دور ہے جیسا کہ گروپ مرحلہ میں ناقابل تسخیر رہتے ہوئے اس نے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی ہے جہاں اس کا مقابلہ 4 اپریل کو جنوبی افریقی

میرپور ۔ یکم ؍ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہندر سنگھ دھونی کی زیرقیادت ہندوستانی ٹیم جس میں 2007ء میں آئی سی سی کی جانب سے متعارف کردہ ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ خطاب حاصل کرنے کے بعد اس مرتبہ بھی وہ خطاب سے صرف دو فتوحات دور ہے جیسا کہ گروپ مرحلہ میں ناقابل تسخیر رہتے ہوئے اس نے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی ہے جہاں اس کا مقابلہ 4 اپریل کو جنوبی افریقی ٹیم سے ہوگا۔ گروپ مرحلہ میں پاکستان، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کو شکست دیتے ہوئے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی ہندوستانی ٹیم ٹورنمنٹ میں تاحال ناقابل تسخیر ضرور ہے لیکن سیمی فائنل میں ایک شکست اسے ٹورنمنٹ سے باہر کرسکتی ہے جس کا اندازہ کپتان دھونی کے علاوہ ان کے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی ہے۔ گروپ مرحلہ میں ناقابل تسخیر رہنے کے باوجود ہندوستانی ٹیم کو چند مسائل درپیش ہیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف خصوصا اسے اپنی 5 اہم خامیوں پر قابو پانے کیلئے حکمت عملی اور اس پر مشق کی ضرورت ہے۔

نائب کپتان ویراٹ کوہلی پر حد سے زیادہ انحصار ٹیم کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ نمبر 3 پر بیٹنگ کرتے ہوئے کوہلی ٹیم کے اہم بیٹسمین بن چکے ہیں۔ کوہلی اگر جلد آوٹ ہوگئے تو ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یوراج سنگھ اور اجنکیا راہنے کا فام ناقابل یقین ہے اور ان کی ایک ناکام اننگز کے بعد تمام تر دارومدار کپتان مہندر سنگھ دھونی پر ہوگا جبکہ ٹورنمنٹ میں رویندر جڈیجہ اور لوور آرڈر کو مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف آخری مقابلہ میں یوراج سنگھ نے فام میں واپسی کا اشارہ دیا ہے لیکن اس مقابلہ میں سریش رائنا کی ناکامی بھی تشویش کا باعث ہے۔ دوسری خامی اوپنر شکھر دھون کا ناقص فام ہے حالانکہ 2013ء ان کیلئے انتہائی شاندار سیزن رہا۔ ان دنوں دھون بہتر انفرادی اور مجوعی طور پر ٹیم کو مستحکم شروعات فراہم کرنے کے لئے کافی دباؤ میں دکھائی دے رہے ہیں۔تیسری خامی مڈل آرڈر کو ٹورنمنٹ میں کھیلنے کا زیادہ موقع نہیں ملا ہے کیونکہ ابتدائی 3 مقابلوں میں ہندوستانی ٹیم کو کامیابی کے لئے 140 کے آس پاس رنزبنانے تھے جو اس نے ابتدائی وکٹوں کے زوال کے ساتھ بہ آسانی حاصل کرلیا جس کی وجہ سے مڈل آرڈر کا ہنوز امتحان باقی ہے اور اگر سیمی فائنل میں ہندوستانی ٹیم کو ایک بڑے اسکور کا تعاقب کرنا پڑا تو پھر جڈیجہ اور اشون کو بھی امتحان دینا پڑ سکتا ہے۔چوتھی اور تشویشناک خامی کیچس چھوڑنا ہے

کیونکہ ٹیم کے بہترین فیلڈر تصور کئے جانے والے یوراج سنگھ نے پاکستان کے کپتان محمد حفیظ اور کریس گیل کا کیچ چھوڑا جبکہ اجنکیا راہنے، ویراٹ کوہلی اور رویندر جڈیجہ کے ہمراہ روی چندرن اشون بھی کیچ چھوڑنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ اہم موقع پر حریف کھلاڑی کا ایک کیچ چھوڑنا کبھی ٹورنمنٹ سے باہر ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پانچویں خامی دراصل ہندوستان کی طاقت ہی ہے کیونکہ سیمی فائنل تک رسائی میں ہندوستانی اسپنرس نے اہم رول ادا کیا ہے اور حریف ٹیم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اسپن بولنگ ہے جبکہ جنوبی افریقہ میں ہاشم آملہ، اے بی ڈی ولیرس، جے پی ڈومنی اور ڈیوڈ ملر اسپن کے خلاف بہتر کھیلنے کے علاوہ ان میں چند کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کا تجربہ بھی حاصل ہے اور وہ ہندوستان کی اصل طاقت کے خلاف بہتر حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے مثبت نتیجہ حاصل کریں تو یہ ہندوستان کے حق میں نقصاندہ ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT