Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / سیمی کارکنوں کا منصوبہ بند طریقہ سے قتل

سیمی کارکنوں کا منصوبہ بند طریقہ سے قتل

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ اور ڈی جی پی کے خلاف قتل کیس کا مطالبہ
پونے۔/4نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا کے متوطن خالد احمدمچھلے کے ارکان خاندان جو کہ مہلوک سیمی کے 8کارکنوں میں شامل تھے، مبینہ انکاؤنٹر کے سلسلہ میں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کے علاوہ بھوپال جیل کے عہدیداروں کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کیس درج کرنے کیلئے پولیس سے رجوع ہوئے ہیں۔خالد احمد کی  61 سالہ والدہ محمودہ نے کل شولہ پور میں MIDCپولیس کو ایک شکایتی درخواست پیش کی اور مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ بھوپیندر سنگھ ہوڈا اور دیگر کو ان کے فرزند کے قتل کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ شولہ پور کے متوطن خالد سیمی کے کارکنوں میں شامل تھے جنہیں بھوپال سنٹرل جیل سے فراری کے بعد پولیس انکاؤنٹر میں مار گرایا گیا۔ محترمہ محمودہ نے بتایا کہ مقامی پولیس نے اگرچیکہ کیس درج نہیں کیا لیکن شکایتی درخواست بھوپال پولیس کو بھیج دینے کا تیقن دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے فرزند کی عنقریب رہائی یقینی تھی ایسے میں وہ کیونکر جیل سے فرار ہونے کی کوشش کرسکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے فرزند کا منصوبہ بند طریقہ سے قتل کردیا گیا۔
عصمت ریزی کے ملزم کارکنوں کی سی پی آئی ایم سے معطلی
تھرواننتاپورم ۔ 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کیرالا میں ایک خاتون کی جانب سے تھرواننتاپورم کے ایک مقامی سی پی آئی (ایم) کارکن اور اس کے تین ساتھیوں کے خلاف اجتماعی عصمت ریزی کا الزام عائد کئے جانے کے ایک دن بعد سی پی آئی (ایم) نے انہیں آج خارج کردیا۔ سی پی آئی (ایم) کی ضلع تھریسور یونٹ کے سکریٹری کے رادھا کرشنن نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ پارٹی کی ضلع کمیٹی نے جینتن اور بینیشس کی معطلی کا کل شام فیصلہ کیا۔ علاقائی کمیٹی نے آج صبح ان دونوں کی معطلی کی سفارش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT