Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / سیمی کارکنوں کے انکاؤنٹر کی تحقیقات پر ہائیکورٹ کی نگرانی ضروری

سیمی کارکنوں کے انکاؤنٹر کی تحقیقات پر ہائیکورٹ کی نگرانی ضروری

حکومت مدھیہ پردیش کے رول پر شبہات ، یہاں انصاف نہیں ملے گا : وکیل پرویز عالم کا بیان
بھوپال ۔ /6 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے 8 کارکنوں کو /31 اکٹوبر کو ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا تھا ۔ ان کارکنوں کی پیروی کرنے والے وکیل نے آج مطالبہ کیا کہ اس انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کرانے کیلئے مدھیہ پردیش حکومت نے اعلان کیا ہے لیکن اس کا یہ اعلان شعبدہ بازی کے مترادف ہے ۔ انہوں نے اس عدالتی تحقیقات پر ہائیکورٹ کی نگرانی کا مطالبہ کیا ۔ متوفی سیمی کارکنوں کی پیروی کرنے والے وکیل پرویز عالم نے کہا کہ انکاؤنٹر کے خاطیوں کو بچانے کیلئے ریاستی حکومت نے ڈرامائی طور پر عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور اس سنگین جرم کی تحقیقات کیلئے خود اپنے کارندوں کو منتخب کیا ہے ۔ ان کاردنوں پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ سراسر جمہوری اور عدالتی نظام کی خلاف ورزی ہے ۔ ریاستی حکومت نے مدھیہ پردیش ہائیکورٹ سے درخواست کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا حکم دینے کے بجائے حکومت نے ازخود ایک تحقیق کنندہ کو مقرر کیا ہے  اور یہ فطری انصاف کے مغائر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو چاہئیے کہ عدالتی تحقیقات کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائیکورٹ سے رجوع ہوں ۔ اس فرضی انکاؤنٹر کی تحقیقات ہائیکورٹ کے موجودہ یا ریٹائرڈ جج کے ذریعہ کروائی جائے ۔ پرویز عالم نے مزید کہا کہ عدالتی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست داخل کرنے والے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تحقیقات ہائیکورٹ کی نگرانی میں کروائی جائے اور اس کے پیانل میں دونوں جانب کے وکلاء شامل ہوں ۔

اسی دوران یہ پوچھے جانے پر کہ آیا انہیں عدالتی تحقیقات شروع کرنے سے متعلق حکومت کی جانب سے کوئی تحریری مکتوب وصول ہوا ہے ۔ مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج ایس کے پانڈے نے کہا کہ ابھی تک مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ مدھیہ پردیش حکومت نے سیمی کارکنوں کے مبینہ انکاؤنٹر کے تین دن بعد عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا تھا ۔ وزیر داخلہ بھیوپیندر سنگھ آج تک بھی یہی کہتے آرہے ہیں کہ اس انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ قبل ازیں چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ جیل توڑ کر فرار ہونے کی قومی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا ۔ مدھیہ پردیش کی نہایت ہی سخت سکیورٹی والے جیل سے سیمی کے 8 کارکن فرار ہوگئے تھے ۔ بعد ازاں انہیں بھوپال کے قریب انکاؤنٹر کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT