Thursday , December 14 2017
Home / عرب دنیا / سینئر اپوزیشن مذاکرات کار ‘دہشت گرد’ ہیں: بشار الجعفری

سینئر اپوزیشن مذاکرات کار ‘دہشت گرد’ ہیں: بشار الجعفری

دمشق ۔ 16 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) جنیوا مذاکرات میں شریک شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشار الجعفری کا کہنا ہے کہ شام کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کے ساتھ بات چیت معاملات کی گہرائی میں جانے سے زیادہ رسمی نوعیت کی رہی۔اپوزیشن کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پہلے تو الجعفری ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور پھر آخر کار یہ جواب دیا کہ شامی حکومت ایک “دہشت گرد” کے ساتھ ہر گز مذاکرات نہیں کرے گی۔ ان کا اشارہ مذاکرات کے لیے شامی اپوزیشن کی سپریم کمیٹی کے سینئر مذاکرات کار محمد علوش کی جانب تھا۔ الجعفری نے کہا کہ ” کوئی بھی تجویز ہو۔ اسے وساطت کار کی جانب سے آنا چاہیے نہ کہ میڈیا کے ذریعے”۔انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات دہرائی کہ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپوزیشن وفد کی نمائندگی پر اجارہ داری قائم کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے حوالہ دیا کہ ڈی مستورا کے ساتھ اس موضوع پر بات ہوئی ہے کہ اپوزیشن کی نمائندگی میں توسیع کی جائے تاکہ بعض کرد فریق بھی شامل ہوسکیں۔اس دوران انہوں نے فیڈرل ریجن کے حوالے سے کردوں کے آخری بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے.. “زمینی اور عوامی طور پر شام کی مجموعی یک جہتی” پر زور دیا۔ الجعفری نے کہا کہ “میں کسی جانب دار بیان پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ کرد یقینا شامی عوام کا ایک اہم حصہ ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے.. اور ان اختلافات پر قمار بازی ناکامی سے دوچار ہوگی”۔جہاں تک شام سے روسی انخلاء کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بشار الجعفری کا کہنا تھا کہ “روسی مشترکہ فیصلے سے شام آئے تھے.. اور مشترکہ فیصلے سے ہی (واپس) جائیں گے”۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT