Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / سینئر قائدین کو کل تک جو سلام کرتا تھا اب اسے سلام کرنا پڑے گا

سینئر قائدین کو کل تک جو سلام کرتا تھا اب اسے سلام کرنا پڑے گا

حیدرآباد ۔ 28 اپریل ۔ ( سیاست نیوز)شہر میں انتخابات کی تشہیر کے اختتام کے ساتھ ہی جیت اور ہار کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ایک طرف جماعت کو وسعت دیکر چھوٹی سی جماعت کے لیبل کو مٹانے کی کوشش میں مصروف جماعت کے سربراہ کو جماعت کے داخلی اختلافات ناقابل بیان تکلیف پہونچانے کا سبب بن گئے ہیں وہیں شہر کے تین اسمبلی حلقہ جو مرکز توجہ بن گئ

حیدرآباد ۔ 28 اپریل ۔ ( سیاست نیوز)شہر میں انتخابات کی تشہیر کے اختتام کے ساتھ ہی جیت اور ہار کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ایک طرف جماعت کو وسعت دیکر چھوٹی سی جماعت کے لیبل کو مٹانے کی کوشش میں مصروف جماعت کے سربراہ کو جماعت کے داخلی اختلافات ناقابل بیان تکلیف پہونچانے کا سبب بن گئے ہیں وہیں شہر کے تین اسمبلی حلقہ جو مرکز توجہ بن گئے ہیں ان حلقوں میں جماعت کے کارکنوں کی رائے مختلف پائی جاتی ہے ۔ جیت اور ہار کا فیصلہ تو دور اب کس کا دبدبہ ہوگا ، کس قائد کی حلقہ میں گرفت ہوگی اس دوڑ میں کارکن ایک دوسرے کی مخالف صف میں جمع ہورہے ہیں۔ جہاں تک نامپلی حلقہ کا سوال ہے اس حلقہ میں جن قائدین کو صدر نے ذمہ داری دی ہے ان میں اختلافات عروج پر ہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت میں ان کے فیصلے جماعت کے صدر کی بوکھلاہٹ کا شکار بن گئے ہیں۔ ملت میں اتحاد پر زور دینے والے صدر جماعت میں اتحاد قائم کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ نامپلی کی ذمہ داری سنبھالنے والے قائدین یاسر اور ماجد میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے ان میں ان کے حامیوں میں کانٹے کی ٹکر چل رہی ہے ۔ ایک کا خیال ہے کہ عرصہ سے نامپلی پر گرفت بنانے کی کوشش کرنے والے کو حالیہ شہرت حاصل کرنے والا کمزور نہیں کرسکتا ، جبکہ دوسرے کا خیال ہے کہ شہرت کے ساتھ طاقت اور علاقہ میں مضبوط گرفت کیلئے وہ کسی کا محتاج نہیں رہنا چاہتا ۔ اس طرح کا کچھ حال کاروان میں بھی پایا جاتا ہے ۔ ایک کارپوریٹر کی حیثیت والے شخص کو جماعت کے سینئر قائدین اور کارکنان صاحب کہنے کے موقف میں نہیں ہیں چونکہ نل کے کنکشن ، برقی کی پریشانی اور نالے اور موریوں کی صفائی کیلئے جس سے ربط قائم کیا جاتا اور فلاں کام کردو اورفوری اس مسئلہ کو حل کردو کہا جاتا اور سینئر قائدین کے ایک اشارے کا محتاج تھا ، ایسے شخص سے ملاقات کیلئے صف میں ٹھہرنا جماعت کے ان سینئر قائدین کو گوارہ نہیں ۔ ایسے حالات میں صدر کا جلسوں میں اتحاد کے لئے سینہ پیٹناخود جماعت کے کارکنوں کے سینوں پر اثرانداز ہونے میں ناکام ہورہا ہے ۔ اس کا نتیجہ خود صدر کی شخصیت پر پڑ رہا ہے جو بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کی ساری توجہ جماعت کو چھوٹی سے بڑی کرنے کے بجائے موجودہ حالات کو برقرار رکھنے میں بڑھ گئی ہے جو موجودہ موقف کو کسی بھی صورت میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دوسری سیاسی جماعتوں میں ان کی اہمیت کو برقرار رکھا جائے ؟

TOPPOPULARRECENT