Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / سینکڑوں افراد تاحال فوڈ سیکوریٹی کارڈ کی سہولت سے محروم

سینکڑوں افراد تاحال فوڈ سیکوریٹی کارڈ کی سہولت سے محروم

عوام معاشی بدحالی کا شکار ، غربت کے خاتمہ پر توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد 17 ستمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں پسماندگی بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔ ظاہری طور پر شہری ترقی نظر آرہی ہے لیکن عوام کی معاشی بدحالی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کا اندازہ سال گزشتہ حکومت کی جانب سے راشن کارڈس کی اجرائی کے سلسلہ میں وصول کی گئی درخواستوں سے ہوا۔ لیکن اب یہ مسئلہ مزید تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ حیدرآباد میں سال گزشتہ راشن کارڈس کی اجرائی کے لئے وصول کردہ درخواستوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگایا گیا تھا کہ شہر میں غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ راشن کارڈ کے حصول کے لئے 9 لاکھ سے زائد افراد نے درخواستیں داخل کی تھیں جس میں حکومت کی جانب سے 8 لاکھ 9 ہزار خاندانوں کو نیشنل فوڈ سکیوریٹی ایکٹ کے تحت فوڈ سکیوریٹی کارڈس کی اجرائی عمل میں لائی گئی لیکن اس کے باوجود بھی شہر میں بڑی تعداد میں عوام فوڈ سکیوریٹی کارڈس بنانے کے لئے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ شہر سے پسماندگی کا خاتمہ کرنے کا دعویٰ کرنے والے قائدین و حکمراں اس بات پر سنجیدہ نظر نہیں آتے چونکہ اِن اعداد و شمار سے وہ بھی واقف ہیں اور پسماندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عوام کی تعلیمی و معاشی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ جب فوڈ سکیوریٹی کارڈ کے حصول کے لئے لاکھوں کی تعداد میں درخواستیں وصول ہونے لگیں تو پھر اِس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عوام کس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ شہر کی چمک دمک سڑکوں و عمارتوں کو دیکھ کر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ شہر حیدرآباد سے پسماندگی دور ہوچکی ہے یا پھر تیزی سے پسماندگی کا خاتمہ ہونے لگا ہے۔ سال 2014 ء میں جب راشن کارڈ کو آدھار کارڈ سے منسلک کیا گیا تھا تو اُس وقت شہر میں 6,29,000 استفادہ کنندگان باقی رہ گئے تھے جبکہ اُس سے قبل 6,88,000 خاندان فوڈ سکیوریٹی اسکیم سے استفادہ کررہے تھے۔ سال 2014 ء میں ماہ جولائی کے دوران ہوئی تخفیف کے بعد 6,29,000 خاندان باقی رہ گئے تھے لیکن حکومت تلنگانہ کی جانب سے فوڈ سکیوریٹی کارڈس کی اجرائی کے اعلان کے ساتھ ہی 9,42,000 درخواستیں وصول ہوئیں جن میں ایک لاکھ 25 ہزار درخواستیں مسترد کردی گئیں۔ مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق انفرادی طور پر اگر جائزہ لیا جائے تو سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد شہر حیدرآباد میں 36,81,000 پہونچ چکی ہے لیکن حکومت و  متعلقہ محکمہ جات نے بعد تحقیق 26,85,000 افراد کو فوڈ سکیوریٹی اسکیم کے لئے اہل قرار دیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شہر میں موجود آبادی کا زائداز نصف حصہ سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ حکمراں طبقہ کے علاوہ عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ شہر کی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے غربت کے خاتمہ کو یقینی بنائیں اور ہر کسی کے لئے تعلیم کے حصول کو آسان بناتے ہوئے شہری پسماندگی کا خاتمہ کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔

TOPPOPULARRECENT