Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / سینکڑوں آٹو ڈرائیورس اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی پہلوتہی کا شکار

سینکڑوں آٹو ڈرائیورس اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی پہلوتہی کا شکار

صرف 510 آٹوز کی اجرائی، دیگر درخواست گذاروں کو افراد خاندان کے ساتھ مایوسی
حیدرآباد۔/13مارچ، ( سیاست نیوز) شہر اور رنگاریڈی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں آٹو ڈرائیورس کو آج اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ آٹو رکشا کی اجرائی کی امید سے حج ہاوز پہنچے تھے لیکن انہیں یہ کہتے ہوئے واپس کردیا گیا کہ ان کی درخواست ابھی بھی زیر غور ہے۔ واضح رہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ حکومت نے 1000 آٹو رکشا کی اجرائی کا اعلان کیا تھا اور 1783 درخواست گذاروں کو اہل پایا گیا۔ ایک ہزار کیلئے قرعہ اندازی کی گئی۔ بعد میں ڈپٹی چیف منسٹر کی نمائندگی پر چیف منسٹر نے تمام 1783 درخواست گذاروں کو آٹو جاری کرنے کو منظوری دے دی۔ حکومت نومبر میں یوم اقلیتی بہبود کے موقع پر اس اسکیم کے آغاز کا منصوبہ رکھتی تھی تاکہ مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر اقلیتوں میں اچھا پیام جائے لیکن اقلیتی فینانس کارپوریشن اسکیم پر عمل آوری میں ناکام رہا۔ کارپوریشن نے اگرچہ ایک کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن بینکرس اور آٹو کے ایجنٹس کے ساتھ اتفاق رائے پیدا ہونے میں ناکامی ہوئی جس کے باعث اسکیم کے آغاز کو چار ماہ کا وقت لگ گیا۔ ابھی تک اقلیتی فینانس کارپوریشن تمام 1783 درخواستوں کی یکسوئی میں ناکام ہوچکا ہے اور کسی طرح 510 درخواستوں کی بینکوں سے منظوری حاصل کی جاسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ آٹو رکشا اجرائی کی تقریب میں تمام درخواست گذاروں کو مدعو کیا گیا اور انہیں امید تھی کہ آٹو اجرائی کیلئے بلایا گیا ہے اور وہ اپنے ارکان خاندان کے ساتھ پہنچے اور دوپہر 12بجے کڑی دھوپ میں منعقدہ تقریب میں موجود رہے لیکن جب صرف 510 آٹوز کی اجرائی کا اعلان ہوا تو انہیں مایوسی ہوئی کیونکہ کئی ایسے آٹو ڈرائیورس تھے جو دوردراز علاقوں حتیٰ کہ رنگاریڈی سے حج ہاوز پہنچے تھے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے 4 ماہ کی مدت میں تمام ضروری کارروائی کی تکمیل کے بجائے حکومت کو خوش کرنے کیلئے صرف پہلے مرحلہ کے تحت آٹوز جاری کئے۔ دوسرے مرحلہ میں 490 اور تیسرے مرحلہ میں 783 آٹو رکشا کی اجرائی کا اعلان کیا گیا لیکن یہ صرف ایک ماہ میں ممکن نظر نہیں آتا۔ تقریب کو کامیاب کرنے کیلئے اس طرح آٹو ڈرائیورس کو مدعو کرنے پر سامعین میں ناراضگی دیکھی گئی۔ دوسری طرف نیشنل اکیڈیمی آف کنسٹرکشن سے سیونگ مشین اور ٹریننگ سرٹیفکیٹس کی تقسیم کے بہانے سینکڑوں برقعہ پوش خواتین کو تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ بھی شدید گرمی کے باوجود انتظار میں ٹھہرے رہے۔ تقریب میں صرف چند خواتین میں سلائی مشین تقسیم کی گئیں جبکہ دیگر خواتین کو انتظار کیلئے کہا گیا۔ یہ خواتین 12 بجے دن سے سہ پہر 4 بجے تک حج ہاوز میں مشین اور سرٹیفکیٹ کے انتظار میں دیکھی گئیں اور کوئی سیدھے منہ بات کرنے بھی تیار نہیں تھا۔ خواتین نے شکایت کی کہ فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں نے اپنی تقریب کو کامیاب بنانے کیلئے انہیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ گھنٹوں انتظار کے بعد بھی بعض خواتین کو مشین کے بغیر واپس کردیا گیا اور کل آنے کا مشورہ دیا گیا۔تقریب کے فوری بعد آٹو ڈرائیورس اور نیشنل اکیڈیمی آف کنسٹرکشن کی تربیت یافتہ خواتین کا کوئی پرسان حال نہیں تھا اور تقریب میں کارروائی چلانے اور تصاویر میں آنے کیلئے بڑھ چڑھ کر آگے رہنے والے ماتحت عہدیدار اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ریفریشمنٹ اور لنچ میں مصروف ہوگئے۔ اسی دوران جاریہ سال کی سبسیڈی اسکیم کیلئے تاحال دیڑھ لاکھ درخواستیں وصول ہوچکی ہیں اور کارپوریشن نے ابھی تک یہ طئے نہیں کیا ہے کہ کس طرح امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ نشانہ 8200 افراد کا ہے ۔ عہدیدار قرعہ اندازی یا کمپیوٹر کے ذریعہ انتخاب کے حق میں ہیں اور 15مارچ کے بعد درخواستو ں کی جانچ کی جائے گی۔ باقی درخواستوں کو آئندہ سال کی اسکیم میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس بات کی شکایت ملی ہے کہ جاریہ سال کی اسکیم کی منظوری کا لالچ دے کر بعض درمیانی افراد اور کارپوریشن سے وابستہ افراد رقومات حاصل کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT