Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سینکڑوں ڈگری کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم ہونے کا امکان

سینکڑوں ڈگری کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم ہونے کا امکان

مقررہ نشستوں پر کم داخلہ ، معیاری تعلیم کے نام حکومت کے سخت گیر اقدامات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ ریاست گیر سطح پر تقریبا 700 ڈگری کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم ہونے کا قوی امکان ہے ۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے 25 فیصد سے کم نشستوں پر داخلہ والے تمام کالجس کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں ۔ 2017-18 میں دوست کے ذریعہ کئے گئے آن لائن داخلوں میں 25 فیصد سے کم داخلے دینے والی کالجس کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق 700 کالجس میں 25 فیصد سے کم نشستوں پر داخلہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ بعض کالجس میں سنگل ڈجٹ داخلہ ہوئے ہیں ۔ برانچس کے مطابق دیکھا جائے تو اکثر کالجس میں داخلہ صفر ہیں کم داخلے حاصل کرنے والے کالجس میں زیادہ عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹیز کے تحت والے کالجس شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں تقریبا 100 سرکاری کالجس کا بھی یہی حال ہے جب کہ سرکاری و خانگی کالجس ریاستی سطح پر 1092 ہیں اور ان میں 4,10,267 نشستیں ہیں ۔ جب کہ ان کالجس میں سالانہ 2 لاکھ نشستوں پر داخلے ہورہے ہیں ۔ کم داخلوں اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے ان کالجس کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاستی سطح پر 700 کالجس میں 1,16,625 سیٹیں ہیں جن میں سے صرف 9106 ( 7.8% ) سیٹوں پر ہی داخلہ ہوئے ہیں ۔ ان حالات کی بناء خانگی کالجس برخاست کردئیے جائیں تو سرکاری کالجس کے بارے میں بھی کئی سوال اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ کیا حکومت ان کالجس کو برخاست کرنے کے لیے راضی ہوگی ؟ جیسے سوالات جنم لے رہے ہیں ۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے چیرمین ٹی پاپی ریڈی نے کہا کہ 25 فیصد سے کم نشستوں پر داخلہ والے کالجس کی برخاستگی یقینی طور پر کی جائے گی اور تعلیمی سال 2018-19 میں ان کالجس میں داخلوں کی سہولت نہیں دی جائے گی ۔ ڈگری تعلیم کو اعلیٰ معیار فراہم کرنے کے مقصد سے یہ کارروائی کی جارہی ہے ۔ خانگی کالجس کے انتظامیہ ہمارا ساتھ دیں یہ اقدام کسی بھی کالج انتظامیہ کے خلاف دشمنی کے تحت نہیں کئے جارہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT