Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سیکریٹریٹ کا گھیراؤ ، کانگریس کے کئی قائدین گرفتار

سیکریٹریٹ کا گھیراؤ ، کانگریس کے کئی قائدین گرفتار

محمد علی شبیر کی پولیس سے تکرار ، سرکاری خزانہ کو لٹانے کا چیف منسٹر پر الزام
حیدرآباد۔ 10 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس قائدین نے سیکریٹریٹ کے انہدام کے فیصلے کے خلاف بطورِ احتجاج سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کیا۔ محمد علی شبیر کی پولیس سے لفظی جھڑپ ہوگئی۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی کے بشمول دوسرے قائدین کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنس، گاندھی نگر، عابڈس اور نامپلی منتقل کردیا۔ پولیس کے نازیبا سلوک پر کانگریس کے قائدین نے برہمی کا اظہار کیا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی قیادت میں کانگریس کے سینکڑوں کارکنوں نے آج 11 بجے گاندھی بھون سے سیکریٹریٹ تک مارچ کرتے ہوئے سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے اتم کمار ریڈی کے بشمول قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر ، سابق مرکزی وزیر سروے ستیہ نارائنا، ارکان اسمبلی جی چناریڈی، ومشی چند ریڈی، ڈی کے ارونا، سمپت کمار، رام موہن ریڈی، سابق وزراء سبیتا اندرا ریڈی، ڈی ناگیندر ، سابق ارکان پارلیمنٹ انجن کمار یادو، ملو روی، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخرالدین، صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس انیل کمار یادو، صدر این ایس یو آئی بی وینکٹ مہیلا کانگریس صدر این شاردا کے علاوہ دوسرے قائدین کو گرفتار کرتے ہوئے نامپلی، عابڈس اور گاندھی بھون پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ پولیس کے نازیبا سلوک پر محمد علی شبیر اور پولیس کے درمیان لفظی جھڑپ ہوگئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پولیس کا رویہ نازیبا ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ واستو درست نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے  نیا سیکریٹریٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس پر سرکاری خزانے کو لٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ریاست کے عوام کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ چیف منسٹر عوامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے سیکریٹریٹ کی تعمیرات پر توجہ دے رہے ہیں۔ آج پرامن جمہوری انداز میں سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ چیف منسٹر عوامی فنڈز فضول خرچ کررہے ہیں۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور آروگیہ شری کے بقایاجات کی عدم اجرائی، روزگار ضمانت اسکیم کے تحت خدمات انجام دینے والے مزدوروں کے بقایاجات آج تک جاری نہیں کئے گئے جس سے عوام پریشان ہیں۔ ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے چیف منسٹر نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر پر بضد ہیں۔ سیکریٹریٹ کے انہدام کے فیصلے سے دستبرداری اختیار نہ کرنے کی صورت میں کانگریس اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT