سیکولرازم کی غلط تاویلات اورشبیہ مسخ کرنا اتحاد کیلئے خطرناک

نئی دہلی۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال نہرو کی وراثت کو دوبارہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے آج کہا کہ ان کے نظریات خطرے میں ہیں کیونکہ ان کی ’’غلط تاویل‘‘ کی جارہی ہے اور انہیں مسخ کیا جارہا ہے۔ بی جے پی پر درپردہ تنقید کرتے ہوئے اور سیکولرازم پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکولرازم ہندوستان کے لئے ناگزیر ہے۔

نئی دہلی۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال نہرو کی وراثت کو دوبارہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے آج کہا کہ ان کے نظریات خطرے میں ہیں کیونکہ ان کی ’’غلط تاویل‘‘ کی جارہی ہے اور انہیں مسخ کیا جارہا ہے۔ بی جے پی پر درپردہ تنقید کرتے ہوئے اور سیکولرازم پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکولرازم ہندوستان کے لئے ناگزیر ہے۔ غیراین ڈی اے پارٹیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی ، سی پی آئی ایم کے پرکاش کرت اور سیتا رام یچوری، سابق رکن پارلیمان اور جے ڈی (ایس) ایچ ڈی دیوے گوڑا، جے ڈی (یو) کے صدر شرد یادو، سی پی آئی کے ڈی راجہ، این سی پی کے جنرل سکریٹری ڈی پی ترپاٹھی، پنڈت جواہر لال نہرو کی 125 ویں یوم پیدائش کے موقع پر کانگریس کے زیراہتمام منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں شریک تھے، تاہم سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، ڈی ایم کے، نیشنل کانفرنس اور تلگو دیشم پارٹی حاضر نہیں تھے، حالانکہ آر جے ڈی قائد لالو پرساد یادو موجود نہیں تھے، لیکن ان کی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جئے پرکاش نارائن یادو کانفرنس میں موجود تھے۔ اپنے افتتاحی خطاب میں صدر کانگریس نے کہا کہ پنڈت نہرو کی زندگی کے بارے میں علم کی سرگوشی اور کام حالیہ عرصہ میں ملک گیر سطح پر کمزور ہوچکا ہے اور غلط تاویلات اور مسخ کرنے کے نتیجہ میں غرق ہورہا ہے۔ سیکولرازم کو ایک سرکاری مذہب کے بارے میں غیرجانبدار نظریہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکولرازم تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتا ہے۔ پنڈت نہرو نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا کہ سیکولرازم کے بغیر نہ تو ہندوستانیت برقرار رہ سکتی ہے اور نہ ہندوستان۔ سیکولرازم تھا اور ہے، یہ صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ہندوستان کے تنوع کے لئے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہرو کو یقین تھا کہ صرف پارلیمانی جمہوریت اور سیکولر مملکت پورے ملک کو متحد رکھ سکتی ہے کیونکہ یہ کثیر علاقائی، کثیر نسلی، کثیر مذہبی، کثیر لسانی ملک ہے اور نہرو درست ثابت ہوئے ہیں۔ جواہر لال نہرو کی یاد میں بین الاقوامی کانفرنس کانگریس کی جانب سے منعقدہ پہلی بڑی تقریب تھی جو لوک سبھا انتخابات میں ناکامی کے بعد منعقد کی گئی تھی۔ بائیں بازو کی پارٹیوں نے یو پی اے کی پہلی میعاد کی حکومت کی تائید کی تھی لیکن 2008ء میں ہند ۔ امریکہ نیوکلیئر معاہدہ کے مسئلہ پر اس سے ترک تعلق کرلیا تھا۔ ترنمول کانگریس نے ستمبر 2012ء میں ایسا ہی کیا تھا، لیکن کانگریس نے بائیں بازو کی پارٹیوں اور ممتا بنرجی کو مدعو کیا، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی مدعو نہیں تھے۔

TOPPOPULARRECENT