Thursday , September 20 2018
Home / اداریہ / سیکولر ازم کو فروغ ملے گا

سیکولر ازم کو فروغ ملے گا

پارلیمنٹ میں اس وقت ایک مضبوط اپوزیشن کی ضرورت ہے۔ کانگریس کی ناکامی اور بائیں بازو پارٹیوں کے کمزور پڑ جانے کے بعد حکمراں بی جے پی کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ اپنی فرقہ پرستانہ پالیسی اور ہندوتوا نظریہ کو آگے بڑھانے کیلئے وہ کوئی موقع ضائع نہیں کررہی ہے۔ ایسے میں سی پی آئی ایم کی نظریاتی پالیسی کو مضبوط بنانے کیلئے پارٹی کے دیرینہ و

پارلیمنٹ میں اس وقت ایک مضبوط اپوزیشن کی ضرورت ہے۔ کانگریس کی ناکامی اور بائیں بازو پارٹیوں کے کمزور پڑ جانے کے بعد حکمراں بی جے پی کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ اپنی فرقہ پرستانہ پالیسی اور ہندوتوا نظریہ کو آگے بڑھانے کیلئے وہ کوئی موقع ضائع نہیں کررہی ہے۔ ایسے میں سی پی آئی ایم کی نظریاتی پالیسی کو مضبوط بنانے کیلئے پارٹی کے دیرینہ و سینئر کارکن و لیڈر سیتارام یچوری کو جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے۔ وہ اپنے پیشرو پرکاش کرت کی طرح ایک سطحی قیادت کا لیبل نہیں رکھتے۔ سیتا رام یچوری میں عملیت پسندی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ان کا تجربہ اور صلاحیت پارٹی کیلئے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ دیگر بائیں بازو پارٹیوں نے ان کے تقرر کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ شیو سینا نے سیتا رام یچوری کو ایک ڈوبتی کشتی کا کیپٹن قرار دے کر اپنے دل کے چھالے پھوڑنے کی کوشش کی ہے ۔ مودی حکومت کی غریب دشمن پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے میں انہیں اہم رول ادا کرنا ہے ۔ انہو ںنے پارٹی کے کیرئیر کا نیا باب ایک ایسے وقت شروع کیا ہے جب پارٹی کی قائدانہ صلاحیتوں پر انگلیاں اٹھنے لگی تھیں‘ پارلیمنٹ میں سی پی آئی ایم بلکہ دیگر بائیں بازو پارٹیوں کو موثر آواز پیدا کرنے کیلئے سیتا رام یچوری کا انتخاب وقت کی ضرورت ثابت ہوگا۔

انہیں کمیونسٹ سینئر قائدین سے قربت حاصل ہے۔ وہ ہرکرشن سنگھ سرجیت سے بے حد متاثر رہے ہیں اور ان کی قیادت میں ہی انہوں نے اپنے سیاسی تجربات کو پروان چڑھایا ہے۔ مرکز میں فرقہ پرست پارٹیوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے ہرکشن سنگھ سرجیت نے 1996-97 میں یونائیٹیڈ فرنٹ کی تجویز پیش کی تھی اس سے قبل وہ وی پی سنگھ کی قومی متحدہ محاذ کے دوران مخلوط حکومت کے دور کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ یو پی اے کی پہلے مرحلے کی حکومت کو بھی بائیں بازو پارٹیوں نے جب تائید کی تھی اس میں سیتا رام یچوری کی بھی تجرباتی مہارت کا کافی عمل دخل تھا۔ حیدرآباد میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج سے اکنامکس میں گریجویٹس کیا تھا۔ پی جی کے بعد پی ایچ ڈی کی تکمیل کرنے والے تھے لیکن ایمرجنسی کے دوران ان کی گرفتاری سے وہ تعلیم پورا نہیں کرسکے ان کے انقلابی نظریات اور انصاف پسندی کی تحریکیوں نے ہی سیتا رام یچوری کو اس وقت سی پی آئی ایم کا اہم عہدہ پر فائز کیاہے۔ ان کی سیاسی صلاحیتوں سے بلا شبہ سی پی آئی ایم کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ پارلیمانی صفوں میں بائیں بازو گروپ کی موثر نمائندگی کرنے کیلئے سی پی آئی ایم کو ایک مضبوط ارادوں والے لیڈر کی کمی پوری ہوئی ہے۔ اگرچیکہ ان کا انتخاب متفقہ طور پر ہونا چاہئے تھا لیکن سی پی آئی ایم میں دیگر مضبوط دعویدار میں موجود تھے۔

پینارائی و چین کیرالہ کی قیادت میں ایک غالب گروپ سرگرم تھا لیکن وہ پارٹی کیلئے نقصاندہ ثابت ہوئے کیونکہ کیرلامیں پارٹی کیلئے کچھ خاص نہیں کیا تھا۔ پرکاش کرت کے بعد سی پی آئی ایم کو ایک مختلف جذبہ و حوصلہ کی حامل شخصیت کی ضرورت تھی جس کی کمی کو پورا کرلیا گیا ہے۔ پرکاش کرت کے مزاج نظریات کے باعث پارٹی کے لئے بعض موقعوں پر فیصلے کرنے میں مشکل ہوتی تھی۔ خاص مسائل پر وہ سمجھوتہ کی راہ اختیار کرنے سے گریز کرتے تھے ان کے برعکس سیتا رام یچوری عظیم تر تعاون اور باہمی رابطہ کاری پر ایقان رکھتے ہیں۔ بدلتے سیاسی حالات میں ملک کے اندر ایک سیکولر جمہوری گروپ کا مضبوط ہونا ضروری ہے کیونکہ مرکز کی مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت کی وجہ سے ملک کے سیکولرازم کو خطرہ ہے۔ سیکولرازم کو لاحق خطرات کے پیش نظر سی پی آئی ایم کو اپنے نئے جنرل سکریٹری کے ساتھ تیز گام ہوکر ایسے کام کرنے ہوں گے جس سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر حکمراں پارٹی کو اپوزیشن کے وجود کا احساس رہے۔ سیتا رام یچوری کو اپنی اس کمزور ہوئی پارٹی کو زیادہ توانا بنانے کیلئے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ مغربی بنگال ‘کیرالا اور دیگر ریاستوں میں پارٹی کی جانب سے سرزد ہونے والی غلطیوں کا ازالہ کرنے کیلئے ٹھوس اور موثر کام کرنے ہوں گے۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کمیونسٹ پارٹیوں کی پالیسی سازی کو مرکز کی فرقہ پرست جماعت کے فیصلوں کو ناکام بنانے کے کام آجائے۔ ملک کے سیکولر کردار اور جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط بنانے کیلئے صاف ستھری قیادت کوہی آگے بڑھنے اور بڑھانے کا وقت آگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT