Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / سیکولر اقدار کمزور کرنے والی طاقتوں سے خبردار، سونیا گاندھی کا انتباہ

سیکولر اقدار کمزور کرنے والی طاقتوں سے خبردار، سونیا گاندھی کا انتباہ

نئی دہلی 29 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ملک کی سیکولر اقدار کو کمزور کرنے والی طاقتوں کے خلاف عوام کو انتباہ دیتے ہوئے یو پی اے کی صدرنشین و صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں تھوڑی سی بھی خلل اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے مقامی واقعات سے بھی کسی جانبداری کے بغیر سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے اُمید ظ

نئی دہلی 29 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ملک کی سیکولر اقدار کو کمزور کرنے والی طاقتوں کے خلاف عوام کو انتباہ دیتے ہوئے یو پی اے کی صدرنشین و صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں تھوڑی سی بھی خلل اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے مقامی واقعات سے بھی کسی جانبداری کے بغیر سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ انسداد فرقہ وارانہ تشدد قانون جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔ جس کا مقصد سماجی ہم آہنگی اور ملک کی سیکولر وراثت کا تحفظ ہے۔ واضح طور پر مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کانگریس نے کہاکہ پولیس کو چھوٹے مقامی واقعات سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل اندازی پیدا نہ ہونے کو یقینی بنانا چاہئے اور اُنھیں کسی بھی جانبداری کے بغیر اِن سے پوری سختی سے نمٹنا چاہئے۔

یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سیکولر اقدار کا تحفظ کرے۔ اُن کی حوصلہ افزائی کرے اور اِس بات کو یقینی بنائے کہ اقلیتوں کو مساوی مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اقلیتوں کا احساس تحفظ اور نظم و قانون کے نظام پر اُن کا اعتماد ضروری ہے۔ ہمیں ایسی طاقتوں کے خلاف خبردار رہنا چاہئے جو ہندوستان کے سیکولرازم کو کمزور کرتی ہوں۔ وہ قومی فروغ وقف کارپوریشن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھیں۔ جس کا مقصد مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف جائیدادوں کو ترقی دینا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہاکہ اِس کارپوریشن نے یو پی اے کے ایک اور تیقن کی تکمیل کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی کابینہ پہلے ہی انسداد فرقہ وارانہ تشدد قانون کی منظوری دے چکی ہے اور اُنھیں اُمید ہے کہ اِسے جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

صدر کانگریس نے کہاکہ یو پی اے حکومت اقلیتوں کی ترقی کی پابند ہے۔ اسکیمات پر جتنی بھی رقم خرچ کی جارہی ہے اُن سے اُن کی فلاح و بہبود میں گزشتہ 10 سال کے دوران 10 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ تاہم اُنھوں نے حکومت کو خبردار کیاکہ صرف اچھی اسکیمات کافی نہیں ہوتیں۔ اُن پر مؤثر عمل آوری کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ میں اِسکیموں کی مؤثر عمل آوری پر زور دینا چاہتی ہوں کیونکہ یہ بھی بہت ضروری ہے۔ بعض اوقات حقیقت تو یہ ہے کہ پراجکٹ کے فوائد اُن افراد تک نہیں پہونچ پاتے جن کے لئے یہ پراجکٹس تیار کئے گئے ہیں۔ اِس لئے ایک ایسے نظام کا قیام ضروری ہے جو شکایات سے نمٹے۔ اِس افتتاحی اجلاس سے صدر کانگریس کے علاوہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT