Monday , August 20 2018
Home / شہر کی خبریں / سیکولر جماعتوں کے بغیر تیسرے محاذ کی تشکیل پر بی جے پی کو فائدہ

سیکولر جماعتوں کے بغیر تیسرے محاذ کی تشکیل پر بی جے پی کو فائدہ

ملک کی سیاسی صورتحال اور کے سی آر کے موقف پر عنقریب جمعیتہ علمائے ہند کی رائے
حیدرآباد ۔ 8 ۔مارچ (سیاست نیوز) جمیعتہ علمائے ہند (مولانا ارشد مدنی) ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے تیسرے محاذ کے قیام پر عنقریب اپنے موقف کا اظہار کرے گی۔ جمیعتہ علماء کے صوبائی صدر برائے تلنگانہ و آندھراپردیش مفتی محمد غیاث الدین رحمانی نے کہا کہ جمیعت کے سربراہ مولانا ارشد مدنی بیرونی دورہ پر ہیں اور بہت جلد ان کی واپسی ہوگی۔ وطن واپسی کے بعد وہ مولانا ارشد مدنی سے تیسرے محاذ کے قیام کی تیاریوں کے مسئلہ پر بات چیت کریں گے ۔ مفتی غیاث الدین رحمانی نے کہا کہ اگرچہ جمیعتہ علماء کے باقاعدہ موقف کا عنقریب اعلان کیا جائے گا ۔ تاہم ان کی شخصی رائے میں اہم سیکولر جماعتوں کے بغیر تیسرے محاذ کے قیام سے بی جے پی کو راست طور پر فائدہ پہنچے گا۔ مولانا غیاث رحمانی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں سے جو وعدے کئے تھے ، ان کی تکمیل میں وہ ناکام ہوچکی ہے۔ اب جبکہ انتخابات قریب ہیں، وعدوں سے مسلمانوں کی توجہ ہٹانے کیلئے تیسرے محاذ کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض طاقتوں نے بی جے پی کی مدد کیلئے کے سی آر کو کام پر لگادیا ہے۔ ملک میں بی جے پی صرف 25 فیصد ووٹوں کے ساتھ برسر اقتدار ہے اور اسے اندیشہ ہے کہ 2019 ء میں ووٹوں کا فیصد مزید گھٹ جائے گا۔ ایسے میں سیکولر ووٹ تقسیم کرتے ہوئے دوبارہ بی جے پی برسر اقتدار آنا چاہتی ہے۔ مفتی غیاث رحمانی نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے تیسرے محاذ میں شمولیت کے امکانات کم ہیں اور وہ کے سی آر کی قیادت کو قبول نہیں کریں گے۔ ممتا بنرجی نے وضاحت کردی کہ ان کی مرضی کے بغیر ہی ٹی آر ایس میں تائید کا دعویٰ کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اہم اپوزیشن جماعتوں میں کئی سیکولر قومی جماعتیں ہیں جن کے بغیر فرقہ پرست طاقتوں سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں بی جے پی حکومت کے دوران فرقہ واریت کا ننگا ناچ دیکھا گیا ہے اور کوئی بھی طاقت اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہی۔ یہ دراصل خود ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ انتخابات میں جمیعتہ علماء نے قومی سطح پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جہاں بھی سیکولر امیدوار مضبوط ہوں ، ان کی تائید کی جائے۔ بی جے پی کو کامیابی سے روکنے کیلئے جماعتی بنیادوں پر تائید کے بجائے مضبوط امیدواروں کی تائید کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس اور آندھراپردیش میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی تائید کی گئی تھی۔ تلگو دیشم میں بی جے پی سے مفاہمت کی تھی ، لہذا وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے امیدواروں کی تائید کا اعلان کیا گیا۔ مولانا غیاث رحمانی نے کہا کہ اہم سیکولر جماعتوں کی تائید کے بغیر کسی بھی محاذ کا قیام نہ صرف بی جے پی کی تائید کے مترادف ہوگا بلکہ کانگریس کے ووٹ بینک کو تقسیم کرنے کی کوشش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تمام سیکولر جماعتیں متحدہ طور پر سیکولرازم اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے میدان میں آئے ۔

TOPPOPULARRECENT