Saturday , June 23 2018
Home / سیاسیات / سیکولر پارٹیوں کی تائید پر ہی انسداد تبدیلی مذہب بل یقینی

سیکولر پارٹیوں کی تائید پر ہی انسداد تبدیلی مذہب بل یقینی

بھوبنیشور ۔ 7 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جبراً تبدیلی مذہب کو روکنے کے مسئلہ پر عام اتفاق رائے پیدا کرنے کی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج کہا کہ اگر سیکولر پارٹیوں نے تائید کی تو اس غرض کیلئے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جاسکتا ہے ۔ اپنے دو روزہ دورہ اڈیشہ کے اختتام پر انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تبد

بھوبنیشور ۔ 7 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جبراً تبدیلی مذہب کو روکنے کے مسئلہ پر عام اتفاق رائے پیدا کرنے کی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج کہا کہ اگر سیکولر پارٹیوں نے تائید کی تو اس غرض کیلئے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جاسکتا ہے ۔ اپنے دو روزہ دورہ اڈیشہ کے اختتام پر انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی مذہب کے مسئلہ پر ہمارا موقف واضح ہے۔ بی جے پی جبراً تبدیلی مذہب کو روکنے کی حامی ہے۔ اس کے لئے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیکولر سیاسی پارٹیوں نے اس بل کی حمایت کی تو پارلیمنٹ میں انسداد تبدیلی مذہب بل پیش کیا جاسکتا ہے ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بی جے پی ہمیشہ زور زبردستی کے ذریعہ مذہب تبدیل کرانے کی مخالف ہے۔ مرکزی حکومت اس طرح کے اقدامات کو روکنے کیلئے ایک جامع بل لاسکتی ہے۔ اس مسئلہ پر مناسب غور و خوض اور تبادلہ خیال کے بعد اگر عام اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے تو بل کی منظوری یقینی ہوگی۔

جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے مسئلہ پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے امیت شاہ نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ بہت جلد حل ہوجائے گا۔ ان کی پارٹی مذاکرات کا عمل جاری رکھی ہوئی ہے۔ اب تک جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ البتہ حکومت سازی کی واضح تصویر بہت جلد ابھرے گی۔ اڈیشہ اور گوا میں مائننگ اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے جسٹس ایم بی شاہ کی سفارشات سے متعلق سوال پر صدر بی جے پی نے کہا کہ تادیبی کارروائی رپورٹ وصول ہونے کے فوری بعد ہر چیز واضح ہوجائے گی ۔

انہوں نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کمیشن کی رپورٹ کو زیر پشت رکھا ہے۔ حصول اراضی قانون میں ترمیم کیلئے جاری کردہ آرڈیننس سے متعلق سوال پر امیت شاہ نے کہا کہ ملک کی ترقی کیلئے یہ ضروری تھا۔ انہوں نے گزشتہ سات ماہ کے دوران نریندر مودی حکومت کے کارناموں کی تصویر پیش کی اور کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بیرونی ملکوں میں جمع کالے دھن کو واپس لانے کیلئے ٹھوس اقدامات شروع کئے ہیں۔ تقریباً 700 بیرونی بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی سپریم کورٹ کے حوالہ کی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں بعض قانونی اور سفارتی رکاوٹیں حائل ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے ’’میک ان انڈیا‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سرمایہ کاری کا موقع دیا ہے۔ ہندوستان میں مہارت پیدا کرنے سے متعلق ایک علحدہ وزارت کو تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کا مقصد ملک میں بیروزگاری کو دور کرنا ہے۔ ماڈل ولیج اسکیم سے بھی تیز تر دیہی ترقی ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT