Tuesday , December 11 2018

سی ایل پی میں مسلم مسائل کو نظر انداز کرنے پر فاروق حسین کا احتجاج

حکومت کے وعدوں کی یاد دہانی اور فرقہ پرستوں کی حرکتوں کو موضوع بحث بنانے کا مطالبہ

حکومت کے وعدوں کی یاد دہانی اور فرقہ پرستوں کی حرکتوں کو موضوع بحث بنانے کا مطالبہ
حیدرآباد /6 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس ایم ایل سی محمد فاروق حسین نے مسلم مسائل کو نظرانداز کرنے پر کانگریس لیجسلیچر پارٹی اجلاس میں آواز اٹھاتے ہوئے طریقہ کار کی مخالفت کی۔ آج کانگریس لیجسلیچر پارٹی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسمبلی اور کونسل میں بجٹ سیشن کیلئے حکمت عملی کی تیاری پر غور کیا گیا۔ ایجنڈا میں 27 نکات شامل کرکے مختلف مسائل پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم فہرست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا کوئی مسئلہ شامل نہ کرنے پر محمد فاروق حسین نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان کئی مسائل سے دو چار ہیں، لہذا ان کے مسائل ایوانوں میں اٹھانا کانگریس کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس پر اب تک عمل آوری نہیں ہوئی۔ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ برسر اقتدار جماعت کے وعدوں کو ایوانوں میں اٹھا کر حکومت سے وضاحت طلب کرے۔ انھوں نے کہا کہ عادل آباد، نظام آباد اور دیگر مقامات پر ہندوتوا تنظیمیں آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد وغیرہ قریشی برادری کو پریشان اور ان پر حملہ کر رہی ہیں اور ان کے جانوروں کو چھین لیتی ہیں، لیکن پولیس ان تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جس کے خلاف قریش برادری احتجاج کر رہی ہے، کانگریس کو چاہئے کہ قریش برادری کے مسائل کو ایوانوں میں اٹھائے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ میں گھرواپسی اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے پروگرامس کے خلاف حکومت کارروائی کرے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس سیکولر جماعت ہے، جس پر مسلمانوں کو بھروسہ ہے۔ اگر کانگریس اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنے کام نہیں کریگی تو پارٹی مستقبل میں مشکلات سے دو چار ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کانگریس میں ایک شخص ایک عہدہ کی وکالت کرتے ہوئے سماج کے تمام طبقات کو کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میں نمائندگی دینے کا مشودہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT