Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / سی ای او وقف بورڈ پر بی جے پی قائدین کے حملہ کی مذمت

سی ای او وقف بورڈ پر بی جے پی قائدین کے حملہ کی مذمت

بورڈ کے ملازمین کا احتجاجی دھرنا ، شکایت کے باوجود پولیس کی عدم کارروائی پر تنقید ،خاطیوں کی عنقریب گرفتاری : پولیس
حیدرآباد۔/22ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے ملازمین نے آج دھرنا منظم کرتے ہوئے بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قائدین کی جانب سے چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی پر حملہ کی کوشش کی مذمت کی۔ بورڈ کے تمام ملازمین نے ایک گھنٹہ سے زائد تک حج ہاوز کے احاطہ میں دھرنا منظم کیا اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کیلئے نعرہ بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں شکایت درج کرنے کے باوجود ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی خود بھی اس دھرنا میں شریک ہوئے اور کہا کہ وہ ملازمین کے تحفظ کے بارے میں فکر مند ہیں۔ بیرونی عناصر کی جانب سے وقف بورڈکے ملازمین اور عہدیداروں پر حملوں اور ہراسانی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں عہدیداروں اور ملازمین کیلئے خدمات انجام دینا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک متنازعہ عاشور خانہ کے مسئلہ پر بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قائدین نے جس طرح ہنگامہ آرائی کی وہ قابل مذمت ہے اور سرکاری ملازمین کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کارروائی سے گریز کرتی ہے تو پھر دوسروں کو بھی اس طرح کی سرگرمیوں کا حوصلہ مل جائے گا۔ ملازمین اور عہدیداروں نے نمائندگی کے نام پر غنڈہ گردی کی مذمت کی۔ احتجاج کے دوران عابڈز پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کی کاپی روانہ کی گئی اور تیقن دیا گیا کہ تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے اور جلد ہی گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔ اس تیقن کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کیا گیا۔ ملازمین نے ’ قلم رکھ دو ‘ احتجاج کیا اور کہا کہ وقف بورڈ میں ماحول غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ جب سی ای او خود محفوظ نہیں تو پھر ملازمین کا کیا حال ہوگا۔ صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے ملازمین اور عہدیداروں کو تیقن دیا کہ وہ بورڈ میں سیکورٹی نظام کو مستحکم بنانے کے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقف مافیا اور وقف جائیدادوں کے پیروکار روزانہ وقف بورڈ کے مختلف سیکشنوں میں عہدیداروں پر دباؤ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ سیکورٹی نظام کو مستحکم بناتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کے داخلہ پر پابندی عائد کریں گے۔ ملازمین نے بتایا کہ مختلف گروپس کی جانب سے روزانہ ان کے حق میں کارروائی کیلئے دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ملازمین احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT