Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / سی ای او وقف بورڈ کے خلاف یکطرفہ کارروائی سے بورڈ بحرانی کا شکار

سی ای او وقف بورڈ کے خلاف یکطرفہ کارروائی سے بورڈ بحرانی کا شکار

بورڈ بے یار و مددگار ، کام کاج ٹھپ ، انچارج سی ای او کے خلاف کارروائی کی دھمکی
حیدرآباد ۔ 15۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کے خلاف یکطرفہ کارروائی نے وقف بورڈ کو بحران کا شکار کردیا ہے ۔ بورڈ کی جانب سے اختیارات نہ ہونے کے باوجود مقرر کردہ انچارج چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے حکومت کی برہمی کو محسوس کرتے ہوئے رخصت حاصل کرلی ہے ۔ اس طرح تلنگانہ وقف بورڈ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے بغیر بے یار و مددگار ہوچکا ہے ، جس سے کام کاج ٹھپ ہوچکا ہے ۔ دوسری طرف حکومت نے آج انچارج چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو میمو جاری کرتے ہوئے حکومت کی اجازت کے بغیر اور کیڈر نہ ہونے کے باوجود ذمہ داری سنبھالنے پر تادیبی کارروائی کی دھمکی دی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وقف بورڈ کے بحران سے متعلق فائل پر اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کی اور بتایا جاتا ہے کہ وہ بہت جلد فائل کو منظوری دے دیں گے ۔ کے سی آر نے حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں ، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمرجلیل اور چیف منسٹر کے سکریٹری بھوپال ریڈی سے صورتحال پر تفصیلات حاصل کی اور بتایا جاتا ہے کہ تینوں عہدیداروں نے وقف بورڈ کی جانب سے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے خلاف کی گئی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ۔ بعض گوشوں سے نئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کے سلسلے میں دیگر محکمہ جات کے مسلم عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا تاہم کوئی بھی عہدیدار وقف بورڈ میں فرائض انجام دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق بورڈ کے پہلے اجلاس کی روداد سے واقفیت کے بعد چیف منسٹر نے محمد اسد اللہ کی باز ماموری کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو فائل ملنے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ وقف بورڈ نے ہفتہ کے دن اپنے پہلے اجلاس میں بورڈ کے اسسٹنٹ سکریٹری ضیاء الدین غوری کو انچارج سی ای او مقرر کیا اور صدرنشین کی ہدایت پر انہوں نے پیر کے دن اپنے طور پر جائزہ حاصل کرلیا تھا ۔ غوری گزیٹیڈ عہدیدار نہیں ہے اور نہ ہی وہ سرکاری ملازم ہیں۔ اس طرح چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کیلئے درکار شرائط سے محرومی نے حکومت کی ناراضگی میں اضافہ کردیا۔ غوری نے دوسرے ہی دن ناسازیٔ مزاج کی وجہ بیان کرتے ہوئے رخصت حاصل کرلی ہے ، جس کے بعد وقف بورڈ میں اب چیف اگزیکیٹیو آفیسر موجود نہیں جو روز مرہ کے امور انجام دے سکے اور عوامی مسائل کی سماعت و یکسوئی کرسکے۔ اسی دوران محکمہ اقلیتی بہبود کو آج انچارج سی ای او غوری کی جانب سے مکتوب وصول ہوا جس میں انہوں نے بورڈ کی جانب سے تقرر پر عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کی اطلاع دی ہے ۔ اس مکتوب کے جواب میں سکریٹری اقلیتی بہبود نے سخت الفاظ پر مبنی میمو جاری کیا جس میں جائزہ حاصل کرنے پر تادیبی کارروائی کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 30 کے تحت بورڈ کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کا اختیار حاصل نہیں ہے اور یہ تقرر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ایسے میں بورڈ نے غوری کو انچارج سی ای او مقرر کرنے کا جو فیصلہ کیا غیر قانونی ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ میمو کی اجرائی کے علاوہ حکومت کی اجازت کے بغیر عہدہ سنبھالنے پر کارروائی کی جائے گی۔ اسی دوران وقف بورڈ سے رجوع ہونے والے سینکڑوں افراد کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ بحران اور محمد اسد اللہ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاکر وقف مافیا سے وابستہ افراد بورڈ کے مختلف سیکشنوں میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ بورڈ کے ارکان موجودہ صورتحال پر تبصرہ سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف چیف منسٹر کے پاس ہے بلکہ وہ بورڈ کی کارکردگی پر سخت ناراض ہیں۔

TOPPOPULARRECENT