Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سی ای او کے خلاف وقف بورڈ کی قرار داد کی کوئی وقعت نہیں

سی ای او کے خلاف وقف بورڈ کی قرار داد کی کوئی وقعت نہیں

دیانتدار عہدیداروں کو ہراساں نہ کیا جائے ، مسرس عزیز پاشاہ اور عثمان الہاجری کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : سابق رکن پارلیمنٹ جناب سید عزیز پاشاہ اور صدر وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی جناب عثمان بن محمد الہاجری نے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے کل منعقدہ اجلاس میں چیف ایکزیکٹیو وقف بورڈ جناب اسد اللہ کی خدمات ان کے اصل محکمہ کو واپس کردینے سے متعلق منظورہ قرار داد کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایک ایسے عہدیدار کو جو انتہائی دیانتداری ، ایمانداری اور جرات مندی کے ساتھ اوقاف کی صیانت کے لیے کام کرتے رہے ہیں ، ان کی نیک نامی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ایسے عہدیدار ، وقف بورڈ کے لیے ایک نعمت ہیں مگر افسوس کہ وقف بورڈ کے ارکان نے جناب اسد اللہ کو سب سے بڑی رکاوٹ محسوس کرنے لگے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایجنڈہ پر مباحث کے فوری بعد بورڈ کے چند مخصوص ارکان نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے سی ای او کا مواخذہ کرنے کی تجویز پیش کی ۔ حالانکہ قانون وقف 1995 ( مرممہ ) اور قواعد وقف 2000 ء میں وقف بورڈ کو نہ ہی چیف ایکزیکٹیو آفیسر کا مواخذہ کرنے ، ان کی خدمات سے استفادہ کرنے سے انکار کرنے یا پھر ان کو معطل کرنے یا برخاست کرنے کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی اپنے طور پر عارضی چیف ایکزیکٹیو آفیسر کا تقرر کرنے کا اختیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ سی ای او کے خلاف قرار داد ایک ایسے رکن نے پیش کی ہے جو بار کونسل کے زمرہ سے منتخب ہوئے ہیں اور اس کی تائید ایسے رکن نے کی ہے جو خود قانون ساز ہیں ۔ جناب عزیز پاشاہ نے کہا کہ چیف ایکزیکٹیو آفیسر کا تقرر کرنے کا اختیار صرف اور صرف ریاستی حکومت کو حاصل ہے ، وقف بورڈ نہ ہی چیف ایکزیکٹیو آفیسر کو معطل کرسکتا ہے اور نہ ہی ان کا مواخذہ کرسکتا ہے ، حتی کہ ان کی خدمات واپس لوٹا دینے کا بھی اختیار نہیں رکھتا ۔ اسی طرح عارضی انتظامات کے طور پر بھی چیف ایکزیکٹیو آفیسر کا تقرر کرنے کا بورڈ کو اختیار حاصل نہیں ہے ۔ قانون وقف کی رو سے ، بورڈ کے اجلاس میں غور و خوص کے لیے پیش کئے جانے والے امور کا ایجنڈہ صرف اور صرف سی ای او ہی تیار کرسکتا ہے ۔ بورڈ کے اجلاس میں کرسی صدارت کی منظوری سے ایجنڈہ کے علاوہ دیگر امور پر غور و خوص کرنے سے متعلق قانون اور قواعد دونوں میں گنجائش نہیں ہے اور اگر بورڈ ایسا کوئی فیصلہ کرتا ہے تو قانون کی نظر میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وقف بورڈ کے اجلاس کو مخصوص ارکان نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جناب عزیز پاشاہ نے بورڈ کے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ خود کی اور ملت کی رسوائی کے باعث موجب فیصلے کرنے کی بجائے اوقافی جائیدادوں کی صیانت ، ان کی ترقی کے اقدامات کرتے ہوئے بورڈ کو فعال بنانے کی کوشش کریں ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT