Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / سی بی آئی جج لویا کو زہر دینے کا ایک اور انکشاف ،قلب پر حملے سے موت کا دعویٰ مسترد

سی بی آئی جج لویا کو زہر دینے کا ایک اور انکشاف ،قلب پر حملے سے موت کا دعویٰ مسترد

لویا کے دماغ پر کوئی چوٹ پہنچی یا پھر انہیں زہر دیا گیا تھا، ماہر فارنسک ڈاکٹر آرکے شرماکا بیان

ممبئی۔ 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج برج گوپال ہرکشن لویا کی مشتبہ حالت میں ہوئی موت کے سلسلے میں ایک اور انکشاف ہوا ہے۔ جج لویا کی موت سے متعلق میڈیکل رپورٹ کی گہرائی سے جانچ کے بعد پتہ چلتا ہے کہ لویا کی موت غالباً سر کو گہری چوٹ پہنچنے سے ہوئی ہوگی یا پھر انہیں زہر دیا گیا ہوگا۔ یہ دعویٰ جج لویا کی موت پر اہم انکشاف کرنے والی میگزین ’’کیراوان‘‘ میں کیا گیا ہے۔ کیراوان کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان کے سرفہرست فارنسک ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر آر کے شرما نے جج لویا کی موت سے متعلق میڈیکل رپورٹ کی جانچ کرنے کے بعد جانچ ایجنسیوں کے اس دعویٰ کو خارج کردیا ہے کہ لویا کی موت دورۂ قلب سے ہوئی تھی۔ ڈاکٹر آر کے شرما کے مطابق میڈیکل رپورٹس کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ یا تو لویا کے دماغ کو کوئی چوٹ پہنچی ہو یا پھر انہیں زہر دیا گیا ہو۔ ڈاکٹر شرما ایمس میں فارنسک میڈیسن اور ٹاکسیکولوجی محکمہ کے سربراہ رہ چکے ہیں اور 22 سال تک انڈین اسوسی ایشن آف میڈیکو لیگل ایکسپرٹس کے سربراہ رہے ہیں۔ ڈاکٹر شرما نے لویا کی پوسٹ مارٹم اور ہسٹو پیتھولوجی رپورٹ جس میں لویا کے دسرا نمونہ بھی شامل تھا، کے کیمیکل انالائسیس کے نتائج کی جانچ کے بعد اپنی رائے ظاہر کی۔ اس کی رائے مہاراشٹرا محکمہ خفیہ کے اس نتیجہ سے مختلف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لویا کی موت پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر شرما نے کہا کہ ہسٹوپیتھولوجی رپورٹ میں مایوکارڈیل انفارکشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے نتیجوں میں دل کے دورہ کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔ ان میں تبدیلی ضرور ظاہر کئے گئے ہیں لیکن یہ دل کا دورہ نہیں ہے۔ سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ لوہا نے رات تقریباً 4 بجے طبیعت خراب ہونے کی شکایات کی تھی اور انہیں صبح 6:15 بجے قرار دیا گیا۔ اس پر ڈاکٹر شرما کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہوا کہ طبیعت خراب ہونے اور موت کے درمیان دو گھنٹے کا فرق ہے۔ دل کے دورہ کے آثار کے بعد اگر 30 منٹ سے زیادہ زندہ رہ جائے تو دل میں واضح تبدیلی نظر آنے لگی ہے لیکن یہاں ایسی کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ واضح رہے کہ لویا کی بہن ڈاکٹر انورادھا بیانی نے بتایا تھا کہ انہوں نے جب موت کے بعد پہلی بار اپنے بھائی کی نعش دیکھی تھی تو اس وقت ان کی گردن پر اور شرٹ پر پیچھے کی جانب خون کے نشان تھے۔ ڈاکٹر شرما کا کہنا ہے کہ یہ بات حیران کن ہے کہ آخرکار پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈیورا میں رکاوٹ آنے کی وجہ کیوں نہیں درج کی گئی ۔ شرما کہتے ہیں اس بات کا امکان ہے کہ انہیں زہر دیا گیا ہو۔ ان کے ہر ایک عضو میں رکاوٹ پائی گئی ہے۔ لویا کے دِسرا کے کیمیکل انالائسیس کا نتیجہ ان کی موت کے 50 دن بعد آیا تھا جس میں کسی زہر کا تذکرہ نہیں تھا۔ ناگپور کے مقامی فارنسک سائنس لیاب میں کئے گئے اس جانچ پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لویا کی موت کے کل 36 دن بعد 5 جنوری 2015ء کو شروع ہوئی دِسرا جانچ 14 دن بعد 19 جنوری 2015ء کو مکمل ہوئی۔ شرما کا کہنا ہے کہ عام طور سے ایک یا دو دن میں ہونے والی اس جانچ میں اتنا طویل عرصہ کیوں لگا؟ اس کے علاوہ اس پورے معاملے میں دِسرا نمونہ کن کن ہاتھوں سے ہوکر گذرا۔ اس سلسلے میں بھی سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جانچ کے لئے بھیجی گئی دِسرا کے ساتھ منسلک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی فرق ہے جو کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ سی بی آئی کے مشیر رہ چکے ڈاکٹر آر کے شرما فارنسک میڈیکو لیگل موضوعات پر پانچ کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ لویا کی موت کے دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد شرما نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ تو ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات میں جو کچھ دیکھنے کو ملا ہے، اس کے بعد اس کی جانچ ضروری محسوس ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT