Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / سی بی آئی کے دھاوے

سی بی آئی کے دھاوے

کبھی اتنی نہ میری پیاس بڑھتی
کوئی شامل ہے میری تشنگی میں
سی بی آئی کے دھاوے
سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن ( سی بی آئی ) کی جانب سے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے دفتر پر دھاوے کے بعد ایک سیاسی طوفان پیدا ہوگیا ہے ۔ مرکزی اور دہلی حکومتوں کے مابین جو ٹکراؤ اور تصادم کی صورتحال جو مسلسل چل رہی تھی وہ شدت اختیار کر گئی ہے اور عام آدمی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ دھاوے در اصل مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کو دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن میں ہوئی بے قاعدگیوں سے بچانے کیلئے کئے گئے ہیں۔ سی بی آئی نے یہ وضاحت کی ہے کہ اس نے چیف منسٹر کے دفتر پر کوئی دھاوا نہیں کیا بلکہ چیف منسٹر کے پرنسپل سکریٹری راجندر شرما کے دفتر پر دھاوے کئے ہیں اور وہاں سے کچھ فائیلوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے ۔ سی بی آئی کا یہ الزام ہے کہ راجندر شرما نے 2007 – 2014 کے درمیان کچھ خانگی کمپنیوں کو فائدے پہونچانے کے مقصد سے کنٹراکٹس دئے تھے ۔ ان فائیلوں کی تحقیقات کی جا رہی ہے ۔ یہ فائیلیں محکمہ تعلیم اور دوسرے محکمہ جات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ سی بی آئی کی جان سے راجندر شرما سے پوچھ تاچھ بھی کی جا رہی ہے لیکن چیف منسٹر دہلی کا یہ کہنا ہے کہ جن فائیلوں کی تلاش کا سی بی آئی نے ادعا کیا ہے وہ فائیلیں چیف منسٹر کے دفتر میں نہیں رہتیں بلکہ یہ متعلقہ محکمہ جات میں ہوتی ہیںاور ان محکمہ جات میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی رسمی طور پر ان محکمہ جات سے کوئی فائیل طلب کی گئی ہے ۔ سی بی آئی راجندر شرما کے نام پر جمہوری طور پر منتخبہ ایک حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن وہ دوسری حکومتوں کی طرح اس کارروائی سے خوفزدہ نہیںہونگے بلکہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے ۔ ان کا الزام ہے کہ دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن میں ارون جیٹلی طویل عرصہ صدر رہے اور وہاں کروڑ ہا روپئے کی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں جن کی تحقیقات کیلئے حکومت دہلی نے پہل کی ہے ۔ اسی لئے ارون جیٹلی کو بچانے کے مقصد سے سی بی آئی نے چیف منسٹر دہلی کے دفتر پر دھاوے کئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جن فائیلوں کی تلاش کا سی بی آئی ادعا کر رہی ہے وہ چیف منسٹر کے دفتر میں نہیں رہتیں بلکہ یہ متعلقہ محکمہ جات کے ریکارڈ روم میں ہوتی ہیں۔ سی بی آئی نے وہاں سے رابطہ نہیں کیا اسی لئے اس کے عزائم و مقاصد مشکوک ہیں۔ وہ کہہ کچھ رہی ہے اور کر کچھ رہی ہے ۔
سی بی آئی کے دعوے اپنی جگہ لیکن جو بات اروند کجریوال کہہ رہے ہیں وہ ضرور قابل غور ہے ۔ جن محکمہ جات کی فائیلوں کی سی بی آئی نے تلاش کا ادعا کیا ہے وہ اپنے متعلقہ محکمہ جات میں ہوتی ہیں۔ چیف منسٹر کے دفتر میں اتنی قدیم فائیلیں نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ 2007 – 2014 میں کنٹراکٹس کی اجرائی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تو پھر دیڑھ سال سے موجودہ مرکزی حکومت نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی تھی ؟ ۔ کیوں نہیں متعلقہ محکمہ جات سے باضابطہ فائیلس طلب کی گئیں اور کیوں نہیں دوسرے ذمہ دار عہدیداروں یا سابقہ ذمہ دار وزیر کو سی بی آئی نے نوٹس جاری نہیں کی ؟۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے نتیجہ میں سی بی آئی کے رول پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔ صرف ایک مخصوص عہدیدار کا بہانہ کرتے ہوئے کسی جمہوری طور پر منتخبہ چیف منسٹر کے دفتر پر دھاوے کرنا ملک کے جمہوری ڈھانچہ کیلئے ٹھیک نہیں ہوسکتا ۔ اگر کسی چیف منسٹر نے کوئی غلط کام کیا ہے تو یقینی طور پر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔ لیکن قانون کے نام پر کسی کو ہراساں کرنے کی کوشش بھی انتہائی قابل مذمت ہے اور اس سے سیاسی انتقام کا جذبہ چھلکتا ہے ۔ حالیہ واقعات سے یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو خوفزدہ کرنا چاہتی ہے اسی لئے سی بی آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ چند دن قبل بھی ایک کانگریس چیف منسٹر کے دفتر اور گھر پر دھاوے کئے گئے تھے اور اب کرپشن کے خلاف جدوجہد کیلئے شہرت رکھنے والے چیف منسٹر کے دفتر کو ہی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
بی جے پی ماضی میں ‘ یو پی اے دور حکومت میں کانگریس پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ اس نے سی بی آئی کا بیجا استعمال کیا ہے اور مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اب خود بی جے پی اسی طرز عمل کو اختیار کئے ہوئے ہے اور مخالفین کو نشانہ بنانے سرکاری ایجنسیوں کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اروند کجریوال حکومت کے ساتھ مرکز کا رویہ پہلے ہی سے ٹھیک نہیں ہے اور اس کے کام کاج میں نت نئے انداز سے رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ جب ایسی کوششوں سے کجریوال حکومت خوف کا شکار نہیں ہوئی تو اب سی بی آئی کے دھاوے کروائے گئے ہیں۔ کجریوال کے دفتر پر جو دھاوے ہوئے ہیں ان سے بے شمار سوال پیدا ہوئے ہیں اور اس پر خود مرکزی حکومت کو اور تحقیقاتی ادارہ کو بھی مکمل اور تفصیلی وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوئے شکوک کو ختم کیا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT