Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سی پی آئی اور سی پی ایم کو متحد ہوجانا چاہئے ‘ سدھاکر ریڈی

سی پی آئی اور سی پی ایم کو متحد ہوجانا چاہئے ‘ سدھاکر ریڈی

ملک کی داخلی سیاسی صورتحال اتحاد کی متقاضی ۔ سی پی آئی جنرل سکریٹری کا بیان

حیدرآباد 10 جولائی ( پی ٹی آئی ) سی پی آئی اور سی پی ایم کو آئندہ چار تا پانچ سال میں متحد ہوجانا چاہئے کیونکہ یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ بائیں بازو کی تحریک اب مشکل میں ہے اور بیشتر عوامل جن کی وجہ سے ان میں 1964 میں پھوٹ ہوئی تھی اب غیر متعلق ہوگئے ہیں۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو سیاسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ دونوں کمیونسٹ جماعتیں ایک ہوجائیں تاکہ ملک میں بائیں بازو کے مقاصد میں کوکئی ٹکراؤ نہ ہونے پائے ۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کو متحد ہوجانا چاہئے ۔ بصورت دیگر دونوں ہی جماعتوں کو نقصان ہوگا ۔ ہمارا یہ احساس ہے کہ بائیں بازو کی تحریک ان دنوں مشکلات کا شکار ہے اس لئے یہ ضروری نہیں کہ دونوں ہی جماعتیں ایک ہی طرح سے کام کریں۔ اگر ہم دونوں مل کر کام کرینگے تو اس کے بہتر نتائج ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہر چیز راتوں رات بدل جائیگی لیکن اس اتحاد کے نتائج بہتر ضرور ہونگے ۔ بڑے قومی اور عالمی سیاسی مسائل پر نظریاتی اختلافات کی وجہ سے متحدہ کمیونسٹ پارٹی میں 1964 میں پھوٹ ہوگئی تھی ۔ سدھاکر ریڈی نے کہا کہ کچھ مسائل جیسے سکیولرازم ‘ جمہوریت اور دستور کی بالادستی جیسے امور پر دونوں ہی جماعتیں مل کر کام کر رہی ہیں اور مہم چلا رہی ہیں لیکن اتحاد کے مسئلہ پر اب تک کوئی راست بات چیت نہیں ہوسکی ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ خود سی پی آئی ( ایم ) میں بھی داخلی طور پر اتحاد کی تجویز پر مثبت اشارے ملے ہیں لیکن سی پی ایم کی قیادت نے ابھی تک اس مسئلہ پر سی پی آئی سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے ۔ اس سوال پر کہ دونوں جماعتوں کے مابین اتحاد کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے انہوں نے کہا کہ سی پی ایم کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔ اس کی قیادت کچھ مسائل پر جو پھوٹ کی وجہ سے بنے تھے تبادلہ خیال کرنا چاہتی ہے لیکن ہمارے خیال میں ان میں بیشتر امور اب غیر اہم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں میں کئی داخلی مسائل پر بھی اختلافات نہیں ہیں ایسے میں ان کے خیال میں ہم کو اتحاد پر بات کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT