Tuesday , September 25 2018
Home / سیاسیات / سی پی آئی (ایم) میں کانگریس کے ساتھ مفاہمت کیلئے دباؤ میں شدت

سی پی آئی (ایم) میں کانگریس کے ساتھ مفاہمت کیلئے دباؤ میں شدت

تریپورہ میں شکست کے بعد کمیونسٹ قائدین حکمت عملی میں تبدیلی پر مجبور
کولکتہ ۔ /4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) تریپورہ میں سی پی آئی (ایم) کی بدترین شکست نے اس پارٹی کو ہونے والے اپنے کلیدی اجلاس میں اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور پر مجبور کردیا ہے اس کے علاوہ کانگریس کے ساتھ مفاہمت کے مطالبات میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس پارٹی کے قائدین نے کہا ہے کہ تریپورہ میں ہزیمت نے سی پی آئی (ایم) میں اپنی بقاء کیلئے صحیح حکمت عملی اختیار کرنے سے متعلق کئی سوالات اٹھائے ہیں ۔ بی جے پی ۔ آئی پی ایف کی اتحاد سے گزشتہ روز تریپورہ اسمبلی انتخابات میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیابی کے ذریعہ ایک نئی تاریخ درج کی ہے ۔ بائیں بازو محاذ کے طاقتور قلعہ کو دائیں بازو کی بی جے پی نے زمین دوز کرتے ہوئے اس کی 25 سالہ حکمرانی کا خاتمہ کردیا تھا ۔ سی پی آئی (ایم) پولٹ بیورو کے رکن حنان ملا نے کہا کہ تریپورہ میں شکست کے بعد یہ پارٹی ایک انتہائی دشوار گزار صورتحال کا سامنا کررہی ہے جس (صورتحال) نے ہمیں نیا راستہ تلاش کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ حنان ملا نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’ہم نے اپنی قرارداد کے مسودہ میں کہا تھا کہ کانگریس کے ساتھ ہم کوئی مفاہمت نہیں چاہئیے ۔ لیکن اب تریپورہ میں شکست کے بعد یہ ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں ہمیں اپنے سیاسی خطوط اور حکمت عملی پر دوبارہ سوچنا ہوگا ‘‘ ۔ واضح رہے کہ سی پی آئی (ایم) کی مرکزی کمیٹی نے /21 جنوری کو اپنی پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کی طرف سے کانگریس کے ساتھ مفاہمت کیلئے پیش کردہ ایک سیاسی قرارداد کے مسودہ کے خلاف ووٹ دیا تھا اور آئندہ ماہ اپریل میں منعقد شدنی اجلاس میں پیشکش کے لئے ایک دوسری قرارداد کا مسودہ منظور کیا تھا جس میں کانگریس کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے امکانات کو مسترد کردیا گیا تھا ۔ اس سوال پر کہ آیا مسودہ قرارداد میں تبدیلی اور اس میں نئی تجاویز کی شمولیت کا امکان ہوسکتا ہے ؟ حنان ملا نے جواب دیا کہ اس مسئلہ پر پارٹی کے اجلاس میں تبادلہ خیال کی ضرورت ہوگی لیکن اس میں تبادلہ خیال کے بعد ہمیشہ گنجائش رہتی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT