Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / سی پی آئی کچھ ریاستوں میں کانگریس سے اتحاد کی حامی

سی پی آئی کچھ ریاستوں میں کانگریس سے اتحاد کی حامی

کانگریس سے اتحاد نہ کرنے سی پی ایم کے فیصلے سے مشکل‘ کمیونسٹ جماعتوں کے انضمام کی وکالت ‘ سدھاکر ریڈی
حیدرآباد 12 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم کی جانب سے انتخابات میں کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کے فیصلے نے سی پی آئی کو مشکل کا شکار کردیا ہے کیونکہ سی پی آئی کچھ ریاستوں میں وسیع تر محاذ کی حامی ہے تاکہ بی جے پی سے مقابلہ کیا جاسکے ۔ تاہم سی پی آئی بائیں بازو کے اتحاد کو بھی ختم کرنا نہیں چاہتی ۔ سی پی آئی نے ایک بار پھر بائیں بازو کی جماعتوں کے انضمام کی وکالت کی ہے اور کہا کہ کمیونسٹ تحریک کے کارکن اور قائدین اس طرح کی کوشش کی حمایت کرتے ہیں اور یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اس کو جتنا ممکن ہوسکے جلدی حقیقت کا روپ دیا جائے ۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہا کہ اب یقینی طور پر بی جے پی سے مقابلہ کیلئے ایک وسیع محاذ کے حامی ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ سارا بایاں بازاو محاذ بھی ایک ہوجائے ۔ اب سی پی ایم نے ایک مختلف موقف اختیار کیا ہے ۔ ہم ایک بار پھر تبادلہ خیال کرینگے کہ کیا کیا جانا چاہئے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ بائیں بازو جماعتوں سے اتحاد ختم ہو اور کانگریس کے ساتھ جائیں۔ گذشتہ مہینے سی پی ایم کی سنٹرل کمیٹی نے ایک مسودہ سیاسی قرار داد منظور کرتے ہوئے کانگریس کے ساتھ کسی طرح کے انتخابی اتحاد کا امکان مسترد کردیا تھا ۔ سدھاکر ریڈی نے کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے ہم خیال جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کرینگی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے خلاف اس طرح کا محاذ وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ صرف چند ریاستوں میں ممکن ہے اور قومی سطح پر ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اتحاد ان ریاستوں میں ممکن نہیں ہے جہاں کانگریس کا راست مقابلہ علاقائی جماعتوں اور بائیں بازو کی جماعتوں سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں میں ایسا ہوسکتا ہے اور ہم اس کے حامی ہیں۔ ساتھ ہی ہم بائیں بازو کے اتحاد کو بھی ختم کرنا نہیں چاہتے ۔ اب دونوں کو کس طرح ساتھ لے کر چلنا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ سدھاکر ریڈی نے کہا کہ اگر سی پی آئی ایم کانگریس سے اتحاد نہ کرنے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتی ہے تو پھر کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں مغربی بنگال جیسی ریاست میں ایک مستحکم طاقت بن کر ابھر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی مسلسل اپنی اس خواہش کا اظہار کر رہی ہے کہ بائیں بازو کی جماعتوں کو ایک ہوجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں وقت گذرتا جا رہا ہے جتنا ممکن ہوسکے جلدی یہ کوششیںہونی چاہئیں۔ سدھاکر ریڈی نے کہا کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کمیونسٹ تحریک کے کارکن اور قائدین بھی یہی خیال رکھتے ہیں کہ کمیونسٹ جماعتوں کو ایک ہوجانا چاہئے ۔ اس سلسلہ میں جلد کوششیں شروع ہونی چاہئیں۔

TOPPOPULARRECENT