Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / سے کم ہو تو دوبارہ انتخاب کی وکالت NOTA کامیابی کا فرق

سے کم ہو تو دوبارہ انتخاب کی وکالت NOTA کامیابی کا فرق

کامیاب امیدوار کیلئے ایک تہائی ووٹ لازی کرنے کی تجویز : سابق چیف الیکشن کمشنر کرشنا مورتی
حیدرآباد 8 جنوری ( پی ٹی آئی ) سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنا مورتی نے کہا کہ ایسے حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروائے جانے چاہئیں جہاں کسی امیدوار کی کامیابی کا فرق NOTA سے کم ہو ۔ NOTA کا امکان ووٹنگ مشینوں میں فراہم کیا گیا ہے جس کے ذریعہ انتخابی میدان میں موجود تمام امیدواروں کو مسترد کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کہیں کامیاب امیدوار اگر ایک تہائی ووٹ لینے میں کامیاب نہ ہو تو بھی دوبارہ انتخاب کروایا جانا چاہئے ۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ہندوستان کا موجودہ انتخابی نظام اب غیر موثر ہوگیا ہے ۔ کرشنا مورتی نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ NOTA کی جو سہولت فراہم کی گئی ہے وہ بہت اچھی ہے ۔ اگر NOTA کا انتخاب جتنے لوگ کرتے ہیں وہ اگر کسی امیدوار کی شکست یا کامیابی کے فرق سے زیادہ ہوجاتا ہے تو پھر ہمیں چاہئے کہ دوسرے راونڈ کے انتخابات کروائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی ہونی چاہئے ۔ NOTA کے ذریعہ رائے دہندوں کو یہ موقع رہتا ہے کہ وہ انتخابی میدان میں موجود کسی بھی امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال نہ کریں۔ حالیہ گجرات انتخابات میں زائداز 5.5 لاکھ رائے دہندوں نے جو 1.8 فیصد ہوتے ہیں NOTA کا بٹن دبایا تھا ۔ ریاست میںایسے کئی حلقے تھے جہاں امیدواروں کی کامیابی کا فرق NOTA سے کم تھا ۔ مسٹر کرشنا مورتی نے کہا کہ ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ کسی بھی کامیاب امیدوار کیلئے 33.33 فیصد ووٹوں یا ایک تہائی ووٹوں کے حصول کو لازمی قرار دیا جانا چاہئے ۔ ایسا کرنے سے چھوٹی سیاسی جماعتیں ختم ہوجائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ NOTA کے امکان سے سیاسی جماعتیں اس بات کیلئے مجبور ہوجائیں گی کہ وہ سنجیدہ اور عہد کے پکے امیدواروں کو میدان میں اتاریں اور ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں جو عوام میں مقبولیت رکھتے ہوں۔

TOPPOPULARRECENT