Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / س16 سال سے کم عمر والے نوجوانوں پر سنگین جرائم کی صورت پر بالغ تصور،مقدمہ چلانے کا فیصلہ، مرکزی حکومت کا فیصلہ

س16 سال سے کم عمر والے نوجوانوں پر سنگین جرائم کی صورت پر بالغ تصور،مقدمہ چلانے کا فیصلہ، مرکزی حکومت کا فیصلہ

حیدرآباد 23 اپریل (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے 16 سال کے نوجوانوں کو سنگین جرائم کی صورت میں بالغ تصور کرتے ہوئے اُن پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مرکزی کابینہ کے اِس فیصلہ کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے چونکہ مرکزی کابینہ نے جو فیصلہ کیا ہے بظاہر وہ عصمت ریزی و قتل کے گھناؤنے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے جس میں کم عمر نوجوان ملوث پائے گئے تھے۔ مرکزی کابینہ کے اِس فیصلہ کے بعد صورتحال میں تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے اور اِس فیصلہ کا متعصب عہدیدار غلط استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو ہراساں کرسکتے ہیں۔ عموماً احتجاج وغیرہ میں کم عمر نوجوانوں کو سرگرم دیکھا جاتا ہے۔ اگر متعصب عہدیدار اِس طرح کی سرگرمیوں کو بھی سنگین جرائم میں شامل کرتے ہوئے اِن نوجوانوں پر بالغ کی طرح مقدمہ چلائے جانے کی سفارش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اِن نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہوکر رہ جائے گا۔ ہندوستان جوکہ دنیا میں صف اول کا ایسا ملک تصور کیا جاتا ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ آبادی کے تناسب کے اعتبار سے نوجوانوں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجود اِس طرح کے قوانین کا نفاذ ملک کی شبیہ کو متاثر کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شہر میں اگر کسی واقعہ کے خلاف احتجاج کے دوران نوجوان پولیس پر پتھراؤ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اِسے سنگین جرم تصور کیا جائے تو اِن نوجوانوں کی زندگی اجیرن ہوسکتی ہے۔ اِسی طرح جموں و کشمیر میں آئے دن اِس طرح کے حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں اور کشمیری عوام ہندوستانی افواج سے نبردآزما ہیں۔ اگر وہ فوجی ٹکڑیوں یا پولیس پر سنگباری کرتے ہیں تو اُنھیں بھی بالغ تصور کرتے ہوئے کارروائی کئے جانے کی صورت میں ملک کا مستقبل خطرہ میں پڑسکتا ہے۔ مرکزی کابینہ کی جانب سے 16 تا 18 برس کے نوجوانوں کو بالغ تصور کئے جانے کے فیصلہ کو منظوری دیئے جانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اِس فیصلہ میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث 16 تا 18 سال کے نوجوانوں کے مقدمات کی سنوائی بالغ کی حیثیت سے کی جائے گی چونکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ملک بھر میں عصمت ریزی کے علاقہ قتل کے واقعات میں کم عمر نوجوانوں کو ملوث پایا گیا ہے اور حکومت اِس کے متعلق عرصہ دراز سے فیصلہ کرنے سے قاصر نظر آرہی تھی۔ گزشتہ یوم کئے گئے فیصلے میں اِس بات کی صراحت کیا جانا ضروری ہے کہ کن جرائم کو مرکزی کابینہ نے سنگین جرائم کی فہرست میں شامل رکھا ہے۔ چونکہ معمولی جھگڑوں کو بھی سنگین جرائم قرار دیتے ہوئے اگر نوجوانوں کا مستقبل تاریک کیا جانے لگے تو ایسی صورت میں اِس فیصلہ کا غلط استعمال ہوسکتا ہے۔ جب کبھی ملک میں نئے قوانین بنتے ہیں یا اِس طرح کے فیصلے کئے جاتے ہیں تو سب سے زیادہ تشویش ملک کی دوسری بڑی اکثریت مسلمانوں میں پائی جاتی ہے کہ کہیں اِن فیصلوں و قوانین کا استعمال ان کے خلاف نہ کیا جائے۔ موجودہ حکومت کے ارادوں اور کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر 16 تا 18 سال عمر کے نوجوانوں کے مقدمات کی سنوائی بالغ کی حیثیت سے کئے جانے کے فیصلے کا استعمال بھی کم عمر مسلم نوجوانوں پر کیا جاسکتا ہے۔ اِن خدشات کے ازالہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ سنگین جرائم کی صراحت کردی جائے تاکہ کسی بے قصور نوجوان کو اپنے حق سے محروم نہ ہونا پڑے۔

TOPPOPULARRECENT