Tuesday , October 16 2018
Home / اضلاع کی خبریں / س2019 سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کا مطالبہ

س2019 سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کا مطالبہ

امید کا چراغ کہیں گُل نہ ہوجائے
س2019 سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی کا مطالبہ
مسلم سب پلان کو روبعمل لانا بھی ضروری ، مولانا آزاد کو خراج ، جگتیال میں یوم اقلیتی بہبود پروگرام ، ضلع کلکٹر اے شرت ، رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی کا خطاب
l نظر انداز کرنے اقلیتی قائدین کی شکایت
l مدعو منتخب قائدین کی عدم شرکت لمحہ فکر

جگتیال ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : جگتیال میں یوم اقلیتی بہبود و یوم تعلیم کا محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے شہر سے دور اے آر گارڈن میں اقلیتی اقامتی مدارس کے طلباء کے ساتھ انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ دعوت ناموں میں ایک بھی اقلیتی قائد کا نام نہ شامل کرنے پر وائس چیرمین بلدیہ جگتیال سراج الدین منصور اور محمد امین الدین سابقہ صدر مینگو اسوسی ایشن مکثر علی نہال ، شیخ ساجد پاپولر فرنٹ ریاستی خازن ، میر کاظم علی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام کے بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا جس پر رکن اسمبلی جگتیال ٹی جیون ریڈی جو اس پروگرام کی صدارت کررہے تھے انہوں نے اور ضلع کلکٹر ڈاکٹر اے شرت نے اقلیتی قائدین سے اصرار کیا اور غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ اس طرح کا اعادہ نہ ہونے کی خواہش پر اقلیتی قائدین شہ نشین پر تشریف رکھا ۔ اس موقع پر اقلیتی قائدین نے یوم اقلیتی بہبود کا انعقاد شہر سے دور اور اقلیتوں کو نظر انداز کرنے پر اظہار ناراضگی ظاہر کیا ۔ قومی یوم تعلیم کا انعقاد محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ جس میں حکمران جماعت سے وابستہ قائدین کے سوامی گوڑ چیرمین ایم ایل سی اور گورنمنٹ چیف وہپ کویلہ ایشور ، پی سدھاکر ریڈی ، ایم ایل سی چیف وہپ اور تولہ اُوما زیڈ پی چیرمین رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے کویتا ، رکن پارلیمنٹ پداپلی ، بی بالکلہ سمن اور میناریٹی چیرمین سید اکبر حسین ، ٹی سنتوش ایم ایل سی اور ودیا ساگر راؤ رکن اسمبلی کورٹلہ ، بھانو پرساد ایم ایل سی ، ین لکشمن راؤ ایم ایل سی ، بی شوبھا ، سی ایچ رمیش رکن اسمبلی ویملواڑہ کے نام دعوت نامے میں مدعوین میں شامل تھے ۔ لیکن کسی ایک حکمران جماعت سے وابستہ قائدین نے بھی اقلیتی بہبود اور یوم تعلیم میں شرکت کرنے کی زحمت نہیں کی ۔ اس سے ان کی اقلیتوں سے ہمدردی اور کتنی محبت ہے صاف ظاہر ہوگئی ۔ اس موقع پر رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم شخصیت تھے ۔ ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ مکہ شہر سعودی عرب میں پیدا ہو کر بھی ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی اور عظیم قربانیاں دی ہیں ۔ تحفظات کا حق دستور نے دیا ہے ۔ علاقائی لحاظ سے معاشی سماجی بچھڑے طبقات کو تحفظات فراہم کرتی ہے ۔ 1993-94 میں متحدہ ریاست آندھرا میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا لائحہ عمل تیار کیا۔ 2004 میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے کانگریس حکومت میں 5 فیصد مسلم تحفظات کا اعلان کیا ۔ قانون میں 50 فیصد تحفظات کے اضافہ ہونے پر 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جس سے مسلمانوں کو کچھ حد تک فائدہ پہنچایا ہے ۔ مسلمانوں کو مکمل انصاف اور فائدہ کے لیے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لیے تلنگانہ ریاستی حکومت ساڑھے تین سال قبل اعلان کیا جس کو کانگریس پارٹی نے بھی بھر پور تائید کا اعلان کیا ، تاخیر ہورہی ہے ۔ کہیں یہ اندھیرے میں نہ بدل جائے آئندہ 2019 کے انتخابات تک مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات روبہ عمل لانے کا پر زور مطالبہ کیا ۔ کوئی شخص پیدائشی غریب نہیں ہوتا اور ملک میں ہر ایک کی سونچ ایک نہیں ہوتی ۔ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی مذہب کی بنیاد پر نہیں سماجی و معاشی طور پر بچھڑے پسماندہ طبقات کو دیگر طبقات کی طرح تحفظات کی فراہمی ہے ۔ مذہب کا نام دے کر تفریق پیدا کرنا انتہائی غلط ہے ۔ مسلمانوں کو ریاستی حکومت ریزیڈنشیل اسکولس کا قیام عمل میں لایا جو قابل ستائش اقدام ہے لیکن پانچویں جماعت ہے ۔ پہلی جماعت سے انگلش میڈیم تعلیم کا آغاز کیا جائے تو بہتر ہوگا اور خانگی مدارس میں قانون حق تعلیم پر عمل آوری کے ذریعہ 25 فیصد رعایت دی جائے تو بہت سے غریبوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ مرکزی حکومت نے دیہی ضامن روزگار اسکیم کے تحت بیروزگار افراد کو روزگار فراہم کرنا اور انہیں جاب کارڈ فراہم کرنا لازمی ہے ۔ لیکن اسکیم سے استفادہ کرنے میں مسلم طبقہ محروم ہے کیوں کہ ایک فیصد مسلم آبادی بھی دیہی علاقوں میں نہیں ہے ۔ مسلمان شہری علاقوں کا رخ کیے ہوئے ہیں ۔ لہذا مسلمانوں کو سماجی و معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے سب پلان کو روبہ عمل لانے کا مطالبہ کیا ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تین سال کا سالانہ میناریٹی بجٹ 340 کروڑ ہے لیکن خرچ 40 فیصد 117 کروڑ بھی نہیں ہوا ہے ۔ اس موقع پر ضلع کلکٹر اے شرت نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد کی خدمات مشعل راہ ہے ۔ وہ مختلف صلاحیتوں کے حامل تھے انہوں نے ہی ملک میں تعلیمی پالیسی کو روبہ عمل لایا اور یونیورسٹی گرانٹ انہیں کی دین ہے اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کا قیام بھی انہوں نے لایا ۔ اقلیتی بہبود پروگرام کے موقع پر پروٹوکال کو نظر انداز کرنے اور اقلیتی قائدین کو نظر انداز کئے جانے کے الزامات کا جوائنٹ کلکٹر کو جی او کا جائزہ لینے اور اس میں ہوئی غلطی پر تحقیقات کا حکم دیا ۔ سب کلکٹر مٹ پلی شرف علی فاروقی نے مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے بل پر آگے آنے اور آزاد ذہنیت کے ساتھ اپنا تعاون پیش کرنے کی خواہش کی ۔ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے ہم دوسروں پر تنقیدیں کرنا چھوڑ دیں ۔ اس موقع پر محمد امین الدین ، میر کاظم علی اور ریاض الدین ماما سابقہ صدر ملت اسلامیہ نے بلدیہ ایجنڈہ 2005 کی کاپی ضلع کلکٹر کے حوالے کرتے ہوئے جگتیال میں تساہلی کا شکار مولانا آزاد مینار کی جلد از جلد تعمیر کا مطالبہ کیا جس پر انہوں نے بلدیہ چیرمین سے بات کرنے کا تیقن دیا ۔ اس پروگرام میں محمد شاکر مٹ پلی بلدیہ کونسلر ، پٹواری مجاہد ، محمد عرفان ، جعفر رشید ، محمد آصف ٹی آر ایس قائد ، ٹی وجیہ لکشمی بلدیہ چیرپرسن ، جوائنٹ کلکٹر راجیشم اور دیگر نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ضلع جگتیال کے پانچ اقلیتی اقامتی مدارس جگتیال گرلز ، بوائز اور مٹ پلی بوائز ، کورٹلہ بوائز ، دھرم پوری ، دنتہ پور گرلز اسکول کے طلباء وطالبات میں انعامات تقسیم کئے ۔ اس موقع پر اسکول پرنسپلس اور اسٹاف اور دیگر نے اس پروگرام میں حصہ لیا ۔ آر ڈی او جگتیال و انچارج ڈی ایم ڈبلیو نریندر ، سپرنٹنڈنٹ ، محمد محمود علی آفیسر ، سینئیر اسسٹنٹ فصیح العابدین ، دھرنی اور دیگر موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT