Wednesday , October 17 2018
Home / ہندوستان / س9سال سے کوما کے شکار پریہ رنجن داس منشی کا انتقال

س9سال سے کوما کے شکار پریہ رنجن داس منشی کا انتقال

قدآور کانگریس لیڈروں میں شمار ،وزیراعظم اور سونیا گاندھی کا خراج عقیدت
نئی دہلی20نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پریہ رنجن داس منشی نوجوانی میں ہی سیاست میں آگئے تھے اور جلد ہی پارٹی کے قدرآور لیڈروں میں ان کا شمار کیا جانے لگا تھا۔ترقی پسند اتحاد حکومت میں بطور وزیراطلاعات و نشریات رہتے ہوئے 12اکتوبر 2008کو انہیں برین ہیمرج ہوا تھا جس کے بعد وہ کوما میں چلے گئے تھے ۔مشرقی بنگال کے چری باندیر (اب بنگلہ دیش) میں 13انومبر 1945کو پیدا ہوئے مسٹر داس منشی 1970سے 71کے دوران یووا کانگریس کی مغربی بنگال یونٹ کے صدر رہے ۔ وہ 1971میں کولکتہ جنوبی سیٹ سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے ۔ اس کے بعد وہ 1984اور 1996میں ہوڑہ سیٹ سے اور پھر 1999اور 2004میں راج گنج لوک سبھا سیٹ سے منتخب ہوئے تھے ۔ داس منشی پہلی بار 1985میں مرکزی کابینہ میں شامل کئے گئے اور انہیں کامرس کے وزیرمملکت بنایا گیا۔ترقی پسند اتحاد حکومت میں 2004میں وہ اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور کے وزیر بنائے گئے تھے ۔ وزیر اطلاعات و نشریات کے طورپر وہ کافی تذکرہ میں رہے ۔ کبھی اے ایکس این اور فیشن ٹی وی کے تعلق سے تو کبھی کھیلوں کی نشریات حقوق دوردرشن کو دلانے کے لئے ۔1994میں ان ان کی دیپا داس منشی سے شادی ہوئی تھی جو 2009سے 2014تک لوک سبھا رکن اور 2012سے 2014تک مرکز میں شہری ترقیات کی وزیرمملکت رہی ہیں۔ داس منشی کی کھیلوں میں بھی کافی دلچسپی تھی۔ وہ تقریباََ 20برس تک آل انڈیا فٹبال فیڈریشن کے صدر بھی رہے ۔ وہ 2006میں فیفا عالمی کپ میں میچ کمشنر کا عہدہ حاصل کرنے والے پہلے ہندستانی تھے ۔انہوں نے آسٹریلیا اور کروئشیا کے مابین کھیلے گئے گروپ سطح کے میچ میں اس عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے داس منشی کی خدمات کو خراج عقیدت ادا کیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے پریہ رنجن داس منشی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ داس منشی ایک مقبول لیڈر تھے جو وسیع تر سیاسی و انتظامی تجربہ کے حامل تھے ۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے داس منشی کے انتقال کو اپنی پارٹی کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے اپنے تعزیتی پیام میں پریہ رنجن داس کی موت کو ریاست کے لئے عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے ارکان خاندان سے تعزیت کیا۔

TOPPOPULARRECENT