Tuesday , December 11 2018

شائد ہی کوئی مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہو : پرنب مکرجی

اوسلو 13 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج کہا کہ ہندوستان میں دہشت گردی بیرون ملک سے آئی ہے اور اندرون ملک جو دہشت گردانہ سرگرمیاں ہیں وہ انتہائی قابل نظر انداز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے 150 ملین مسلمانوں میں شائد ہی کوئی مسلمان اس میں ملوث ہو ۔ صدر جمہوریہ نے ناروے کو اپنے دورہ سے قبل مقامی ذرائع ا

اوسلو 13 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج کہا کہ ہندوستان میں دہشت گردی بیرون ملک سے آئی ہے اور اندرون ملک جو دہشت گردانہ سرگرمیاں ہیں وہ انتہائی قابل نظر انداز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے 150 ملین مسلمانوں میں شائد ہی کوئی مسلمان اس میں ملوث ہو ۔ صدر جمہوریہ نے ناروے کو اپنے دورہ سے قبل مقامی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 150 ملین ہندوستانی مسلمانوں میں یقینی طور پر ایک دو لوگ ہونگے جو ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں لیکن بیشتر باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ باہر سے آر ہے ہیں۔ ہندوستان میں جو دہشت گردانہ سرگرمیاں ہیں وہ انتہائی قابل نظر انداز ہیں اور جب کبھی ایسے اشارے محسوس ہوتے ہیں ہم مناسب کارروائی کرتے ہیں۔ مسٹر پرنب مکرجی نے کہا کہ دہشت گردی کے پاس کسی مذہب کا کوئی احترام نہیں ہے اور نہ اس کی سرحدات ہیں اور نہ کوئی نظریہ ہے ۔ ان کا واحد نظریہ یہ ہے کہ مکمل تباہی مچائی جائے اور انسانی اقدار کی نفی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ایک گوشہ کی دہشت گردی اچھی ہے اور دوسرے گوشے کی غلط ہے ۔ اچھے دہشت گرد یا برے دہشت گرد کی جو زمرہ بندی ہے وہ ان کے خیال میں بے معنی ہے ۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ یہ ہندوستان کیلئے خوش بختی کی بات ہے کہ 150 ملین مسلمانوں میں شائد ہی کوئی دہشت گردی میں ملوث ہو ۔ انڈونیشیا کے بعد دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہندوستان ہی میں پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ دہشت گردی سے بہرصورت مقابلہ کیا جانا چاہئے اور اس میں کسی بھی صورت میں ملوث نہیں ہونا چاہئے ۔ یہ واحد راستہ ہے کہ آپ دہشت گردی سے نمٹ سکتے ہیں۔ ہند ۔ پاک سرحد اور لائین آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی سے متعلق سوال پر مکرجی نے کہا کہ اس سوال کا جواب وزیر خارجہ دے سکتے ہیں اور اس مسئلہ پر ہندوستان کی معلنہ پالیسی یہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کا انتخاب تو کرسکتے ہیں لیکن اپنے پڑوسیوں کا انتخاب نہیں کرسکتے ۔ مسٹر مکرجی نے کہا کہ وہ بحیثیت وزیر خارجہ دو مرتبہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ کسی کشیدگی میں نہیں رہ سکتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کشیدگی کو کم کیا جائے تاہم ساتھ ہی یہ بھی قبول کیا جانا چاہئے کہ آزادی اور تقسیم کے بعد حالات بدل گئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین دو معاہدات ہیں۔ ایک 1972 کا شملہ معاہدہ ہے اور دوسرا 1999 کا لاہور اعلامیہ ہے ۔ ان دونوں کے ذریعہ دونوں ملکوں کے باہمی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT