شاداں بزنس مینجمنٹ ادارے کے طلبا و طالبات ملک و بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز

شاداں انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز فار گرلز اینڈ بوائز سے جناب شاہ عالم رسول خان کا خطاب

شاداں انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز فار گرلز اینڈ بوائز سے جناب شاہ عالم رسول خان کا خطاب
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : کسی بھی سرکاری یا خانگی ادارے کی کامیابی اور ترقی کی ذمہ داری مینجمنٹ سے متعلق ہوتی ہے اور جس ادارے میں محنتی ، تنظیمی صلاحیتوں کا حامل، وقت کی قدر کرنے والا تجربے کار مینجمنٹ ہویہ ادارہ اپنی منفرد پہنچان بناتا ہے ان خیالات کا اظہار جناب محمد شاہ عالم رسول خان صدر نشین شاداں ایجوکیشنل سوسائٹی نے آج شاداں انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز برائے طلبا و طالبات کے تدریسی عملے کے جائزہ اجلاس کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندو بیرون ہند ممالک میں مینجمنٹ کورس کو کافی اہمیت دی جارہی ہے اورعالمی سطح پر مختلف یونیورسٹیوںمیں مینجمنٹ کی تعلیم کے لئے طلباو طالبات جوق در جوق داخلہ لینے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر ان مینجمنٹ کرنے والے طلبہ کو اہمیت دی جارہی ہے اور انہیں بہتر سے بہتر روزگار کے مواقع دستیاب ہورہے ہیں۔ شاہ عالم رسول خان نے کہا کہ آج کل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کرنے والوں کی کمی نہیں ہے لیکن ان میں جو طلباو طالبات سخت محنت و جستجو کے ساتھ اپنی تعلیمی دور پر توجہہ دیتے ہوئے پورے انہماک سے کورس مکمل کرتے ہیں ان کی قابلیت میں اضافہ ہوتا ہے اور ایسے طلبا و طالبات دنیا میں کسی بھی ملک کے کسی بھی ادارے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکتے ہیں ۔ جناب شاہ عالم نے کہا کہ ان طلباو طالبات کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ان کی قابلیت میں اضافہ کرنے اور انکے ادب و اخلاق کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اساتذہ کرام اور فیکلٹیزپر عائد ہوتی ہے۔ ایم بی اے دو سالہ کور س ہے جس میں طلبہ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنی قابلیت میں نکھار پیدا کرسکتے ہیں۔ طلبا و طالبات جب اس کورس کی تکمیل کرلیتے ہیں تو انٹرویوز دینے میں انہیں مہارت حاصل ہوتی ہے وہ بلا جھجھک ، باوقار طریقے سے صاف و شفاف ماحول میں بہترین لب و لہجہ کے ساتھ انٹرویو دے سکتے ہیں۔ جناب شاہ عالم رسول خان نے اپنے والد محترم ڈاکٹر محمد وزارت رسول خان مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کو مدّنظر رکھ کر ان تعلیمی اداروں کا جال پھیلایا اور اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انتھک وشبانہ روز محنت کی ۔ ڈاکٹر صاحب کی کاشوں کا نتیجہ ہے کہ آج شاداں تعلیمی ادارے پوری آب و تاب کے ساتھ طلباو طالبات کی تعلیم و تربیت کررہے ہیں۔ جناب شاہ عالم نے تدریسی اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ کورس سے متعلق مضامین پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات میں دیگر مصنفین کی تصانیف کے مطالعہ کے علاوہ اخبارات و جرائد پڑھنے پر توجہہ دلائیں اور اس کے لئے لائبریری سے استفادہ کرنے کے لئے طلبہ پر زور دیں۔ اساتذہ بھی متعلقہ مضامین پڑھانے سے قبل پوری تیاری کے ساتھ طلبہ کو لکچر دیں اور طلبہ کی پابندی اور ڈسپلن پر خصوصی توجہہ دینے کی خواہش کی۔ ابتداء میں کالج کے پرنسپل پروفیسر الیاس الرحمن نے کالج کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ پرنسپل نے بتایا کہ 1993ء میں کالج کا قیام عمل آیا اور اب تک بیس بیاچیس نے کالج سے فراغت پائی اور ہر سال کالج کا نتیجہ صد فی صد رہا۔کالج کی تاسیس کے موقع پر طلبہ کی تعداد 60تھی لیکن انتظامیہ اور عملے کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجہ میں تعلیمی سال 2013-14میں کالج کے شعبہ گرلز اور بوائز کی مجموعی تعداد 360ہے۔ انہوں نے کالج کے دیگر مصروفیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’مینجمنٹ کانفرنسس، سمینارس ، انڈسٹریز ٹیورس، ورکشاپس‘‘ کے انعقاد وقتاً فوقتاً عمل میں لایا جاتا ہے۔ طلباو طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے کارپوریٹ شعبہ کے تجربہ کار ماہرین کے لکچرس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ پرنسپل نے بتایا کہ تعلیمی نصاب پر توجہ مرکوز اور ادبی سرگرمیوں، انڈور گیمس کے مقابلے بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ طلبا و طالبات کے لئے اسپورٹس کلب موجود ہے۔ پرنسپل نے اپنی رپورٹ میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایم بی اے سالانہ امتحان 2014منعقدہ عثمانیہ یونیوسٹی میں طالبات گروپ میں مس عرشیہ آصف نے 90فیصد، مس آمنہ بیگم نے 88فیصد، مس نیہا نے 87فیصد جبکہ ایم بی اے طلبا گروپ میں مسٹر شیخ سبحان نے 88فیصد، مسرٹ مظفر نے 87فیصد اور مسٹر محمد اعجاز نے 86فیصد نشانات سے امتیازی کامیابی حاصل کی۔ کالج میں اسپورٹس، عصری کمپیوٹر لیابس، لائبریری، اور کشادہ کلاس رومس ہیں۔ کالج کے پروفیسرز و لکچرارس کی تعلیمی قابلیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں اکثریت ایم فل اور پی ایچ ڈی کئے ہوئے ہیں۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے ایم بی اے کی واجبی فیس کی پالیسی کی وجہ سے شہر کے دیگر کالجس کے بجائے طلبہ یہاں داخلہ لینے کو فوقیت دیتے ہیں۔ اور طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جائزہ اجلاس کے موقع پر پروفیسر احمد اللہ خان وائس چیرمین (اکیڈیمکس) پی سی ایم بی ، جناب محمد محی الدین گھٹالہ چیرمین آر کے کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی بودھن، جناب رحمن شریف آفیسر اسپیشل ڈیوٹی شاداں ایجوکیشنل سوسائٹی، جناب شاہد انصاری ڈائرکٹر شاداں انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز برائے طلبا نے بوائز کالج کی مفصل رپورٹ پیش کرتے ہوئے کالج کی تعلیمی و دیگر سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔

TOPPOPULARRECENT