Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شادیوں میں اسراف سنگین مسئلہ، سیاست کی تحریک امید کی کرن

شادیوں میں اسراف سنگین مسئلہ، سیاست کی تحریک امید کی کرن

معاشرہ کے سدھار کے لئے کمربستہ ہو جائیں، دوبدو ملاقات پروگرام سے مولانا محمد علی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد /6 ستمبر (دکن نیوز) حجۃ الاسلام مولانا محمد علی (مقیم ایران) نے مسلم والدین پر زور دیا کہ وہ رشتوں کے انتخاب میں دینداری اور سیرت و کردار کو نمایاں اہمیت دیں اور خوبصورتی، دولت اور ظاہری شان و شوکت کو معیار بنانے سے گریز کریں۔ انھوں نے کہا کہ شادیوں میں لڑکی والوں پر لین دین، جہیز اور دعوتوں کا اہتمام سراسر ظلم کے مترادف ہے۔ مولانا محمد علی آج عابد علی خاں آئی ہاسپٹل میں ادارہ سیاست اور مائناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ 46 ویں دوبدو ملاقات پروگرام سے خطاب کر رہے تھے، جس میں شیعہ مسلم والدین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ مرکزی سیرت الزہرا کمیٹی کے تعاون سے منعقدہ اس پروگرام میں کئی شیعہ علماء، معززین اور والدین و سرپرستوں نے شرکت کی۔ جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے صدارت کی۔ مولانا محمد علی نے کہا کہ ہندوستان کے باہر کئی ممالک میں شادی کی ساری ذمہ داریاں لڑکوں اور ان کے والدین پر ہوتی ہیں، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان بالخصوص حیدرآباد میں سارے اخراجات لڑکی والوں پر عائد کئے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالات انتہائی ناسازگار ہو گئے ہیں، غیر اسلامی رسم و رواج، لین دین کی شرط اور اسراف کے نتیجے میں بچوں کی شادیاں ایک سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔ حیدرآباد جو دنیا میں اپنی تہذیب، شرافت اور رواداری کے باعث مثالی شہر بنا رہا، آج اس شہر میں شادی بیاہ کو ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں مہر کو اہمیت حاصل ہے، لیکن ہمارے معاشرہ میں مہر کو ضمنی حیثیت دی جا رہی ہے۔ ان پرآشوب حالات میں سیاست کی تحریک امید کی کرن بن کر ابھری ہے اور یقیناً اس کے نتائج ثمرآور ہوں گے۔ انھوں نے ’’ایک کھانا ایک میٹھا‘‘ تحریک کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ ملک کے دیگر علاقوں میں دوبدو ملاقات پروگرام کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ حیدرآبادی شادیوں کے انداز سے بیزار ہوچکے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم حالات کو سمجھیں اور اپنے طرز عمل پر نادم ہوکر اپنے معاشرہ کو سدھارنے کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔ ذاکر اہلبیت مولانا علی مرتضی نے سیاست اور ایم ڈی ایف کی ان سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کے باعث انداز فکر میں تبدیلی آرہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کائنات کا پہلا رشتہ ازدواجی رشتہ ہے، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کے رشتہ زوجیت سے نسل انسانی پروان چڑھی۔ اسی طرح ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا، نکاح کو آسان بنانے کی تلقین کی اور کم اخراجات کے ساتھ ہونے والے نکاح کو باعث رحمت قرار دیا، لیکن ہم ان تمام مذہبی سچائیوں اور تاریخی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ان لوگوں کی ڈگر اختیار کئے ہوئے ہیں، جو ایمان سے محروم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے دور ہیں، تو پھر کس طرح مسلم شادیاں خوشحالی کی ضامن ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ شادیوں میں رسومات کی بھرمار اور پانی کی طرح پیسہ بہانے کی جو رسم چلی ہے، اس سے نہ صرف معیشت کمزور ہو رہی ہے، بلکہ ہمارے خاندانی تعلقات میں بھی دراڑ پڑتی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال ہمارے لئے باعث عبرت ہے۔ دولت مندوں کے طرز عمل سے متوسط و غریب طبقات کو زیادہ پریشانی لاحق ہو رہی ہے۔ انھوں نے غریب لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں کے نظام کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ سیکڑوں مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتے دوبدو ملاقات پروگرام میں طے پاچکے ہیں، (سلسلہ صفحہ 6 پر)۔

TOPPOPULARRECENT