شادیوں میں اسراف سے مسلم معاشرہ میں مشکلات

حیدرآباد /22 مارچ (دکن نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ شادیوں کو آسان بنانے تحریک کو کامیاب بنائیں، خاص طورپر انھوں نے لڑکوں کے والدین سے اپیل کی کہ وہ مطالبات سے گریز کریں اور اپنی بے بنیاد خواہشات کے نام پر شادیوں کو اسراف سے بچائیں، کیونکہ اس صورت حال سے سارا مسلم معاشرہ غیر معمولی مشکلا

حیدرآباد /22 مارچ (دکن نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ شادیوں کو آسان بنانے تحریک کو کامیاب بنائیں، خاص طورپر انھوں نے لڑکوں کے والدین سے اپیل کی کہ وہ مطالبات سے گریز کریں اور اپنی بے بنیاد خواہشات کے نام پر شادیوں کو اسراف سے بچائیں، کیونکہ اس صورت حال سے سارا مسلم معاشرہ غیر معمولی مشکلات و مصائب سے دو چار ہے۔ انھوں نے کہا کہ لڑکی کے والدین کو شادی پر پانچ لاکھ تا ایک کروڑ کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں، جو ناقابل برداشت ہیں۔ جناب زاہد علی خاں آج ایس اے امپیریل گارڈن ٹولی چوکی میں سیاست اور ایم ڈی ایف کے زیر اہتمام منعقدہ 41 ویں دو بدو ملاقات پروگرام میں صدارتی تقریر کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ سیاست کی جانب سے ایک مؤثر تحریک چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد شادیوں کو آسان بنانا اور مسلمانوں کو اسراف سے بچانا ہے۔ اس تحریک کے ذریعہ ہم مسلمانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، کیونکہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ شادی کی تقاریب پر خرچ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گھوڑے جوڑے کی رقم اور جہیز کے مطالبات آج کے ماحول میں جہالت و گمراہی کے مترادف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بے جا رسومات اور غیر اسلامی طریقوں کو اپنانے سے شادیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انھوں نے اوقافی جائدادوں کے تحفظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ایکشن کے بعد کئی اوقافی جائدادوں کو ہڑپ لیا گیا۔ حیدرآباد میں لینکو ہلز کی 108 ایکڑ اراضی دراصل اوقافی جائداد ہے، جس کی بازیابی کیلئے انھوں نے قومی یکجہتی کونسل اجلاس میں نمائندگی کی تھی۔ اس کے علاوہ سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور دیگر مرکزی قائدین سے مسئلہ کو رجوع کیا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ کانگریس حکومت نے اس وقف جائداد کو مسلمانوں کے حوالے کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اسی طرح 13 ہزار ایکڑ پر محیط راجیو گاندھی بین الاقوامی ایرپورٹ بنانے جی ایم آر کو ذمہ داری دی گئی تھی، حالانکہ یہ پوری اراضی اوقافی جائداد ہے۔ ایرپورٹ کا رن وے بنانے مسجد کو شہید کیا گیا۔ اس سلسلے میں ہم نے حکومت کو یادداشت پیش کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ایرپورٹ کی آمدنی کا 40 فیصد وقف بورڈ کو دیا جائے، لیکن اس میں بھی حکومت نے مسلمانوں کے احساسات کو نظرانداز کردیا۔ انھوں نے کہا کہ اب تلنگانہ تشکیل پاچکی ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ اوقافی جائدادوں کے مسئلہ کی یکسوئی کرے، تاکہ ان رقومات کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کی جاسکے اور اس رقم کو مسلمانوں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی معاملے میں خرچ کیا جاسکے۔ جلال الدین اکبر ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے کہا کہ دوبدو پروگرام مسلم معاشرہ کو درپیش ایک سنگین مسئلہ کو حل کرنے کی سمت نہایت مؤثر اور مثبت قدم ہے۔ انھوں نے سیاست اور ایم ڈی ایف کی کوششوں کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ، جگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات نے واضح کردیا ہے کہ مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت انتہائی ابتر ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اسکیمات بھی بنائی گئی ہیں، لیکن خاطر خواہ عمل آوری نہیں ہو پا رہی ہے۔ انھوں نے شادی مبارک اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غریب مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہئے۔ لڑکی کی شادی کیلئے حکومت کی جانب سے 51 ہزار روپئے دیئے جا رہے ہیں، آسان شرائط بنائی گئی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ سیاست ہیلپ لائن اور خود محکمہ اقلیتی بہبود سے ربط پیدا کریں۔ جناب محمد معین الدین صدر فیڈریشن آف ٹولی چوکی آف کالونیز، ممتاز صنعت کار محمد احمد نواز خاں (شارجہ دوبئی) اور جناب جی ایم مصطفی نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ جناب محمد معین الدین نے تشویش کا اظہار کیا کہ آج کل عقائد کے اختلاف سے رشتے ٹوٹ رہے ہیں، حالانکہ رشتوں کی بنیاد کلمہ پر ہونی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی انتہا پسندی نے خاندانوں میں اختلافات اور نفاق پیدا کردیا ہے۔ کلمہ کی بنیاد پر ہم سب مسلمان ہیں، لیکن ہم اس قدر پستی کا شکار ہیں کہ بچوں کے پیامات کو طے کرنے میں عقائد اور حسب نسب کو ترجیح دینے لگے ہیں، جو سراسر غیر اسلامی طرز عمل ہے۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے کہا کہ نکاح سنت ہے، نکاح کیلئے رشتوں کا انتخاب نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
دینداری کا معیار صرف ظاہر داری نہیں بلکہ لڑکا یا لڑکی کے اوصاف کو معیار بنانے کی ضرورت ہے۔ شریف خاندان، نیک و باکردار لڑکا یا لڑکی سے رشتہ کرنا اسلامی طریقہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں، ورنہ بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج کل خلع و طلاق کے واقعات دراصل ہماری کوتاہیوں اور غیر اسلامی طرز عمل کے باعث پیش آرہے ہیں۔ انھوں نے ’ایک ڈش ایک میٹھا‘ تحریک کی حمایت کی اور کہا کہ اس تحریک کا مقصد نکاح کو آسان بنانا اور لڑکی کے والدین کو مالی بوجھ سے بچانا ہے۔ جناب محمد مستقیم صدر آل انڈیا مسلم رائٹس اسوسی ایشن (مغربی بنگال) نے کہا کہ دوبدو پروگرام کے طرز پر ملک کی ہر ریاست میں مسلم شادیوں کو طے کرنے پروگرام ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے سلسلے میں کافی پریشانیاں ہیں۔ جناب عثمان الہاجری جنرل سکریٹری دکن وقف پروٹیکشن اسوسی ایشن نے جناب محمد مستقیم کا تعارف کروایا اور انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں ادارہ سیاست واحد ادارہ ہے، جس نے دیگر سرگرمیوں کے علاوہ لاوارث میتوں کی تدفین کا اہم ترین کام اپنے ذمہ لیا ہے، جس کیلئے جناب زاہد علی خاں قابل مبارکباد ہیں۔ جناب محمد خواجہ معین الدین جنرل سکریٹری نے ابتدا میں مائنارٹیز ڈیولپمنٹ فورم کا تعاون کروایا۔ شاہد حسین نے کارروائی چلائی۔ جلسہ کا آغاز قراء ت کلام پاک سے ہوا۔ جناب محمد خواجہ معین الدین نے بارگاہ رسالتؐ میں نعت شریف پیش کی۔ جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست بھی موجود تھے، جن سے کئی والدین و سرپرستوں نے ملاقات کی اور انھیں مبارکباد پیش کی۔ آج دوبدو پروگرام میں تقریباً 3000 والدین و سرپرستوں نے شرکت کی۔ امپیریل گارڈن شرکا سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ صبح سے لڑکے و لڑکیوں کے پیامات کا رجسٹریشن شروع ہوا جو چار بجے تک جاری رہا۔ ایک دن میں لڑکوں کے 160 اور لڑکیوں کے 317 رجسٹریشن کروائے گئے۔ دوبدو ملاقات پروگرام میں ماجد انصاری، محمد حنیف، عبد المجیب اور کئی معززین نے شرکت کی۔ جناب ایم اے قدیر، ڈاکٹر ایوب حیدری، سید ناظم الدین، خدیجہ سلطانہ، محمد برکت علی، امتیاز ترنم، میر انورالدین، ڈاکٹر دردانہ، محمد احمد، صالح بن عبد اللہ باحاذق، کوثر جہاں، محمد نصر اللہ خاں، لطیف النساء، احمد صدیقی مکیش، ریحانہ نواز، ضیاالرشید، صمد خاں، شاہد حسین، رئیس النسا، رفیعہ سلطانہ، عابدہ بیگم، ثانیہ، ثناء تبسم، زاہد فاروقی اور سیاست و ایم ڈی ایف کارکنوں نے انتظامات کی نگرانی کی اور کونسلنگ میں حصہ لیا۔ شادی خانہ کے باہر دور دورتک گاڑیوں کی پارکنگ دیکھی گئی۔ پولیس نے وسیع بندوبست کیا تھا۔ ایس اے امپیریل گارڈن کے اسٹاف نے سرپرست اور والدین کی سہولت کے لئے مؤثر انتظامات کئے۔ جناب عابد صدیقی نے 41 ویں دوبدو ملاقات پروگرام کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امپیریل گارڈن انتظامیہ، سیاست و ایم ڈی ایف کے کارکنوں، میڈیا، پولیس اور دیگر ادارہ جات سے اظہار تشکر کیا۔ دوبدو پروگرام میں آج ادارہ سیاست کا خصوصی کاؤنٹر قائم کیا گیا، جہاں شادیوں کیلئے دعاؤں، تجوید و عربی سیکھنے کی کتابیں اور دیگر معلومات کے پمفلٹس مفت تقسیم کئے گئے۔

ایس اے ایمپرئیل گارڈن ٹولی چوکی میں ادارہ سیاست و ایم ڈی ایف کے زیراہتمام منعقدہ رشتوں کے دوبدو پروگرام کی جھلکیاں…
٭ 41 واں دوبدو ملاقات پروگرام انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا جس میں تقریباً 3000 والدین و سرپرستوں نے شرکت کی۔
٭ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ نکاح کو آسان بنائیں تاکہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کے رشتے بہ آسانی طور پر طے پاسکے۔
٭ اُنھوں نے نہایت جذباتی انداز میں کہاکہ اللہ تعالیٰ نے اگر میری زندگی چند سال اور دیں تو پوری کوشش کروں گا اور میری خواہش ہے کہ حیدرآباد میں کوئی بھی لڑکی ان بیاہی نہ رہے۔
٭ آج کے پروگرام میں محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائرکٹر جلال الدین اکبر نے بطور خاص شرکت کی۔ اور دوبدو پروگرام کے انتظامات پر خوشنودی کا اظہار بھی کیا۔
٭ مغربی بنگال سے آئے ہوئے مہمان جناب محمد مستقیم نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور جناب زاہد علی خان اور صدر ایم ڈی ایف عابد صدیقی کے ہمراہ کاؤنٹرس کا معائنہ کیا۔
٭ شارجہ و دوبئی سے آئے ہوئے ممتاز صنعتکار جناب احمد نواز خان نے بھی دوبدو ملاقات پروگرام میں شرکت کرکے تمام کاؤنٹرس کا جائزہ لیا۔
٭ موسم گرما کی چلچلاتی ہوئی دھوپ کے باوجود والدین و سرپرستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
٭ آج ایک دن میں لڑکیوں کے 317 ، اور لڑکوں کے 160 نئے رجسٹریشن کروائے گئے۔
٭ لڑکوں اور لڑکیوں کے والدین کو بائیو ڈاٹا فوٹوز کا تبادلہ کرتا ہوا دیکھا گیا۔ ایک اطلاع کے بموجب تقریباً 50 رشتے اُصولی طور پر طے پائے۔
٭ ایس اے ایمپرئیل گارڈن نے شرکاء کے لئے نہایت عمدہ و بہتر انتظامات کئے۔ موسم گرما کے پیش نظر ٹھنڈے پانی کا معقول نظم کیا گیا۔
٭ جناب ظہیرالدین علی خان نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے تمام کاؤنٹرس کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور والدین سے تبادلہ خیال کرتے رہے۔
٭ دوبدو پروگرام شام 5 بجے اختتام کو پہنچا۔

TOPPOPULARRECENT