Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / شادیوں میں بے جا رسومات کی روک تھام اور تقاریب کو مقررہ وقت پر ختم کرنے اجلاس

شادیوں میں بے جا رسومات کی روک تھام اور تقاریب کو مقررہ وقت پر ختم کرنے اجلاس

23 جنوری کو حج ہاوز میں محمد سلیم چیرمین وقف بورڈ ، علماء ، قاضی حضرات اور پولیس کے ساتھ مشاورت کریں گے
حیدرآباد۔ 19 جنوری (سیاست نیوز) شادی بیاہ کی تقاریب کے مقررہ وقت پر انعقاد اور بے جا رسومات سے گریز کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے جس تحریک کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے اسے سماج کے مختلف گوشوں سے تائید حاصل ہورہی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے اس مسئلہ پر 23 جنوری کو حج ہائوز میں علماء کرام، مشائخین، قاضی حضرات اور پولیس عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس کے انعقاد کا مقصد شادی بیاہ کی تقاریب کو رات 12 بجے تک مکمل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں شعور بیداری کے علاوہ پولیس کے ذریعہ شادی خانے کے مالکین کو پابند کیا جائے گا۔ رات دیر گئے تک تقاریب جاری رہنے سے کئی برائیاں اور جرائم وجود میں آرہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں بارات میں ہتھیاروں کے ساتھ رقص کے نتیجہ میں دو نوجوانوں کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس نے ہتھیاروں کے ساتھ رقص کرنے پر سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ رات دیر گئے تک تقاریب جاری رہنے سے نوجوان نسل مختلف برائیوں میں مبتلا ہورہی ہے اور تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ کس طرح رات 12 بجے کی شرط پر عمل کیا جاسکے۔ عصر تا عشاء کے درمیان نکاح منعقد کیا جائے اور طعام کا انتظام ہو تو وہ 11:30 بجے تک مکمل کرلیں۔ شادی خانے کے مالکین رات 12 بجے کسی بھی صورت میں شادی خانہ کو بند کردیں تاکہ رات دیر گئے کی سرگرمیاں قابو میں آسکے۔ انہوں نے کہا کہ قاضیوں کو بھی پابند کیا جائے گا کہ وہ رات 9 بجے کے بعد نکاح پڑھانے سے گریز کریں اور عوام کو جلد نکاح کی تکمیل کے فوائد سے واقف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی خانوں کے علاوہ پولیس کو ایسی ہوٹلوں اور پبس پر بھی نگرانی رکھنی چاہئے جہاں شراب، رقص اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علماء کرام نے جلد نکاح کی تکمیل کی تحریک کی تائید کی ہے۔ اس تحریک کا مقصد بے جا رسومات کے علاوہ اصراف کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں بعض برادریاں شادی بیاہ کے موقع پر صرف ایک کھانے اور ایک میٹھا کی شرط پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ جلد شادی کی تکمیل سے معاشرے میں برائیوں پر قابو پا نے میں مدد ملے گی۔ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں نکاح کے جلد انعقاد کی روایت موجود ہے۔

TOPPOPULARRECENT