Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / شادیوں میں صرف ایک ڈش رکھنے مسلمانان تانڈور کا فیصلہ

شادیوں میں صرف ایک ڈش رکھنے مسلمانان تانڈور کا فیصلہ

جناب زاہد علی خاں کی تحریک کا مثبت اثر ، بیجا اسراف سے بچنے اور تعلیم و تجارت پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ

جناب زاہد علی خاں کی تحریک کا مثبت اثر ، بیجا اسراف سے بچنے اور تعلیم و تجارت پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے نبی کریم ﷺ نے امت کو فضول خرچی سے بچنے کا حکم دیا ہے ۔ یہاں تک کہ فضول خرچ کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے ۔ ایسے میں اگر کوئی معاشرہ میں اپنا رعب و دبدبہ جمانے کے لیے ریاکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضول خرچی کرتا ہے تو وہ گمراہی کی طرف رواں دواں ہیں ۔ ہمارے معاشرہ میں شادی بیاہ کے موقع پر جس انداز میں بیجا اسراف کئے جارہے ہیں اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہم ایکدوسرے کو نیچا دکھانے ، سماج میں عزت و توقیر یا پھر جھوٹی شیخی کے لیے فضول خرچی کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف میں ہونے والی شادیوں میں مسلمانوں کی تواضع انواع و اقسام کے کھانوں مرغ مسلم اور میٹھوں سے کی جاتی ہے حالانکہ شادی اور ولیمہ میں مہمانوں کی تواضع ایک قسم کے کھانے اور ایک قسم کے میٹھے سے بہتر طور پر کی جاسکتی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی شادی اور ولیمہ میں فی شخص 150 ۔ 200 کے حساب سے کھانا دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر 600 مہمانوں کی دعوت ہوتی ہے تو دولہن کے ماں باپ پر کم از کم 120000 روپئے کا بوجھ عائد ہوگا جب کہ شادی خانہ کا کرایہ 70 تا 80 ہزار روپئے ادا کرنا پڑتا ہے ۔ ان حالات میں 400 روپئے فی مہمان کے حساب سے خرچ کئے جائیں تو 600 مہمانوں کے لیے 240000 روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔ جب کہ ایک قسم کی بریانی اور ایک قسم کے میٹھے سے مہمانوں کی تواضح پر صرف 30 تا 40 ہزار روپئے کے مصارف آتے ہیں۔ ایسے میں دولہن کے ماں باپ پر اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی دولہے والوں پر کسی قسم کا بوجھ عائد ہوگا ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دولہن یا دولہے والوں کو کسی سے قرض لینے کی آزمائش سے بھی نہیں گذرنا پڑے گا ۔ خیر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے شادیوں میں بیجا اسراف کے خلاف جو مہم شروع کی ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہور ہے ہیں ۔ شہر سے بالکل قریب تانڈور میں مسلمانوں نے جناب زاہد علی خاں کی تحریک پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شادی اور ولیمہ کی تقاریب میں صرف ایک قسم کا کھانا اور ایک قسم کا میٹھا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں مسلم ویلفیر اسوسی ایشن تانڈور کا ایک کل جماعتی اجلاس منعقد ہوا جس میں شادیوں اور ولیمہ کی تقاریب میں بیجا مصارف پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی حالت پہلے ہی سے ابتر ہے لیکن شادی بیاہ کے معاملہ میں وہ قرض لے کر اپنی عزت کی خاطر مہمانوں کی انواع و اقسام کے کھانوں اور میٹھوں سے تواضع کرتے ہیں اور شادی کے چند ماہ بعد ہی سودی قرض کی ادائیگی ان کے لیے وبال جان بن جاتی ہے ۔ حالانکہ دین اسلام میں مسلمانوں کو شادی سادگی سے اور پروقار انداز میں کرنے کا حکم دیاگیا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’’ نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل بناؤ ‘‘ چنانچہ تانڈور کے مسلمانوں نے آپ ﷺ کی اس حدیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے سارے تانڈور میں شادیوں کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ بیجا اسراف سے پاک بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ مستقر تانڈور میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔ جب کہ سارے تعلقہ میں 85 ہزار مسلم رائے دہندے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے ۔ مسلم ویلفیر اسوسی ایشن تانڈور کے ایک وفد نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مسلمانان تانڈور کے فیصلے سے واقف کرایا ۔ مسلم ویلفیر اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سید کمال اظہر نے بتایا کہ صدر خورشید حسین اور امیر مسلم ویلفیر اسوسی ایشن محمد خواجہ المعروف پاشاہ بھائی کا بھی اس معاملہ میں اہم رول رہا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخ ساز فیصلہ کل جماعتی اجلاس میں لیا گیا جن میں سنت الجماعت کے حافظ شکیل ، جماعت اسلامی کی جانب سے سراج صمدانی ، اہلحدیث کی طرف سے خرم جامعی ، تبلیغی جماعت کے مولانا اظہر قاسمی نے شرکت کی ۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے قائدین بشمول ٹی آر ایس کے عبدالروف ، کانگریس کے ایم اے نعیم ، ویلفیر پارٹی کے ہدایت اللہ کے علاوہ ایم اے ہادی نے بھی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اپنے زرین خیالات پیش کئے ۔ تانڈور میں مسلمانوں کو بیجا اسراف سے بچانے کی تحریک میں عبدالسلیم جائنٹ سکریٹری ، یونس صاحب ٹیچر ، صابر حسینی صدر نشین اردو گھر ، بشارت علی و دیگر کافی مصروف ہیں ۔ جناب زاہد علی خاں نے مسلم ویلفیر اسوسی ایشن اور مسلمانان تانڈور کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ شادیوں میں بیجا اسراف و رسومات سے بچنے میں مسلمانوں کا ہی فائدہ ہے اس رقم کو تعلیم اور تجارت پر خرچ کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے مسلم ویلفیر اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری سید کمال اظہر کی گلپوشی بھی کی ۔۔

TOPPOPULARRECENT