Monday , August 20 2018
Home / شہر کی خبریں / شادیوں کے بعد بھی لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کا مشورہ

شادیوں کے بعد بھی لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کا مشورہ

نرمل کی پہلی ضلع کلکٹر ایم پرشانتی کا نمائندہ ’سیاست‘ کو انٹرویو

نرمل۔/19فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آج کوئی بھی محکمہ لے لیجئے جس میں خواتین نہ ہوں کیونکہ آج کی خواتین نے مَردوں کے شانہ بہ شانہ چلتے ہوئے یہ بات ثابت کردی کہ خواتین بھی ہر محکمہ میں ملازمت کی اہل ہیں۔ اس لئے والدین کو بھی یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں میں کوئی فرق محسوس نہ کریں دونوں کو بھی تعلیمی میدان میں آگے بڑھائیں۔ ان خیالات کا اظہار نرمل ضلع کی پہلی خاتون کلکٹر محترمہ ایم پرشانتی ( IAS)نے نمائندہ ’سیاست‘ سید جلیل ازہر کو اپنے چیمبر میں ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کلکٹر صاحبہ نے بتایا کہ حکومت کئی ایک اسکیمات روشناس کرواتے ہوئے عمل آوری کررہی ہے بالخصوص خواتین کے تحفظ پر خصوصی توجہ مرکوز کررہی ہے ۔ نرمل ضلع میں بھی پولیس سے تال میل کے ذریعہ شی ٹیم کی تشکیل کے بھی اچھے نتائج آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد نرمل ضلع مستقر پر مرکزی حکومت کی جانب سے ایک سنٹر کا قیام عمل میں آرہا ہے جس کا نام ’’ ساکھی سنٹر ‘‘ ہوگا۔ اس سنٹر کے قیام کیلئے پانچ ایکڑ اراضی فراہم کی گئی ہے جس میں خواتین کے مختلف مسائل ، کونسلنگ کی سہولت ، خواتین کے علاج کا انتظام اور بھی نئے کورسیس مثلاً کمپیوٹر سنٹر، مہندی ڈیزائننگ اور بھی ایسے کورسیس کی ٹریننگ دی جائے گی جس سے خواتین کو خود مکتفی بنایا جائے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم ہوں اور اس سے استفادہ کیا جاسکے۔ محترمہ پرشانتی نے بتایا کہ زمانہ کی رفتار اور تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے اسکولس میں طلباء اور طالبات کو حفاظت خود اختیاری کے لئے بھی کراٹے وغیرہ کی ٹریننگ کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ نرمل ضلع کے تمام علاقوں کے دورہ سے پتہ چلا کہ یہاںتعلیم یافتہ لوگوں کا فیصد کم ہے ۔ انہوں نے تمام سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی آنے والی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں۔ اس لئے کہ تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے خـاندان، علاقہ، اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے مواقع ملتے ہیں بلکہ تعلیم یافتہ نسل ہی تہذیب یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔ محترمہ پرشانتی نے کہا کہ اکثر کسی بھی مذہب میں یہ بات نوٹ کی جارہی ہے کہ والدین اپنی لڑکیوں کی شادی کے ساتھ ہی ترک تعلیم کرادیتے ہیں اس رجحان کو بدل دینے کی ضرورت ہے کیونکہ کچھ مثالیں آج ہر جگہ موجود ہیں کہ لڑکیاں شادیوں کے بعد بھی تعلیم کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے انتہائی اہم ملازمتیں حاصل کی ہیں۔ والدین سے میں اپیل کروں گی کہ اس رجحان کے سدباب کیلئے کوشش ہو۔ آخر میں محترمہ ایم پرشانتی نے کہا کہ حکومت کی تمام اسکیمات پر سختی سے عمل آوری کی جارہی ہے اور تمام عہدیداروں کو عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے محترک کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عوامی دربار میں ہونے والی ہر شکایت کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی یکسوئی کی جارہی ہے۔ میں بحیثیت نرمل ضلع کلکٹر اپنی ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھاتے ہوئے اس علاقہ میں حکومت کی تمام اسکیمات اور ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کروں گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT