Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی بیاہ میں اسراف اور فضول خرچی سے اجتناب کا مشورہ

شادی بیاہ میں اسراف اور فضول خرچی سے اجتناب کا مشورہ

ایمپرئیل گارڈن میں ادارہ سیاست اور ایم ڈی ایف کا 79 واں دوبہ دو پروگرام ‘ مولانا فہیم الدین اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔ 22؍ اکٹوبر ( دکن نیوز) مولانا فہیم الدین بیدر ‘ کرناٹک نے کہاکہ شادی بیاہ کے معاملات احکام الہٰی اور حضور اکرم ﷺ کے ارشادات کے مطابق ہونی چاہئے جس کے ذریعہ خوشگوارا ور پرسکون زندگی کی ضمانت حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے لئے لڑکی کے انتخاب میں یہودی دولت و ثروت کو معیار بناتے ہیں ‘ عیسائیوں کے پاس حسن و جمال کو ترجیح دی جاتی ہے ۔مشرکین ذات ‘ پات اورحسب و نسب اور نسل کو ہی اولین ترجیح دیتے ہیں لیکن اسلام نے رشتوں کے انتخاب میں دینداری ‘ بہتر اخلاق و کردار اورپرہیزگاری کو نمایاں اہمیت دی ہے ۔ موجودہ مسلم معاشرہ میں مسلمان اپنے بچوں کی شادیوں میں اسلامی تعلیمات کو فراموش کرتے ہوئے دیگر مذاہب کے انداز فکر کو اختیار کر رہے ہیں جس کے باعث کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مولانا فہیم الدین آج ایس اے ایمپرئیل گارڈن ‘ ٹولی چوکی میں 79 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام کو مخاطب کر رہے تھے ۔ ادارہ سیاست اور میناریٹیز ڈپولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ اس پروگرام میں تقریباً 5000 ہزار والدین اور سرپرستوں نے شرکت کی ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے صدارت کی ۔ جناب محمد معین الدین صدرفیڈریشن آف ٹولی چوکی کالونیز نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔ مولانا فہیم الدین نے کہاکہ موجودہ دور میں مسلمان اپنے طرز عمل کے ذریعہ شادیوں کو آسان بنانے کے بجائے مشکل بناتے جا رہے ہیں ۔ بے جا رسومات ‘ لین دین اور شادیوں کو طئے کرنے میں کاروباری انداز اور بے پناہ مطالبات کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے جس سے نہ صرف لڑکی کے والدین متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ہمارے سماج پر بھی اس کے بھیانک اثرات رونما ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پیارے نبیؐ کو سادگی پسند تھی ۔ زندگی کے معاملات میں سادگی کو اختیار کرنا مومن کی شان ہے ۔ اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ شادی کو آسان بنایا جائے اور شادی بیاہ میں اسراف اور فضول خرچی سے پرہیز کیا جائے ۔ اگر ہم ان اصولوں پر کاربند ہوجائیں تو ہم نہ صرف بندگی کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کے لئے خوشگوار ازدواجی زندگی کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔ انہوں نے ادارہ سیاست اور ایم ڈی ایف کو اس بنیادی اوراہم کام کو جاری رکھنے پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ کام دیگر ریاستوں بھی پھیلے گا ۔ جناب محمد معین الدین نے کہاکہ والدین کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر تربیت پر توجہ دیں ۔ لڑکی کو شوہر کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہئے ‘ساس اور خسر کا ادب و احترام کرنے کی تربیت دی جانی چاہئے۔ کیونکہ یہی تربیت لڑکی کی زندگی میں خوشیاں بکھیر سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خلع و طلاق کے واقعات کے اہم وجوہات میں لڑکیوں کی جانب سے موبائیل فون کا بکثرت استعمال اور بڑھتی ہوئی انانیت اور سسرال کے نئے ماحول میں اپنے آپ کو جذب کرنے کی عدم صلاحیت ہے ۔ انہوں نے صدر ایم ڈی ایف نے کہاکہ آج کا مسلم معاشرہ تعلیمیافتہ ہے اور ان کی دینی معلومات میں روز افزوں ہوتا جا رہاہے اس کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جہیز ‘ لین دین اور مطالبات جیسی لعنت کو اختیار کئے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کب تک ہم فرسودہ روایات اور بیجا رسومات کے دلدل میں پھنسے رہیں گے ۔ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور ہماری زندگی کے معاملات پر انگشت نمائی کی جا رہی ہے ۔ ان حالات میں ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اپنے گھر کوسدھا ریں اور اپنی معاشرت کو تباہی سے بچائیں اور اپنی معیشت کو اسراف اور فضول خرچی سے بچا کر مستحکم کرنے کی جستجو کریں ۔ دو بہ دو ملاقات پروگرام میں آج برسرموقع شادی طئے ہوئی ۔ جناب کاظم خان سابق ڈپٹی کلکٹر کے فرزند فرقان احمد کا رشتہ جناب حبیب خان کی دختر کے ساتھ طئے پایا ۔ لڑکے کے والد نے واضح طورپر والدین اور سرپرستوں نے روبرو اعلان کیاکہ لڑکے کی شادی بناء کسی لین دین کریں گے ۔ سیاست تحریک کے زیر اثر اسراف اور فضول خرچی سے احتراز کریں گے ۔ اس کا تالیوں کی گونج میں خیرمقدم کیا گیا ۔ حافظ و قاری محمد مظفر کی قرأت سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ جناب احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالت مآب میں نعت پیش کی ۔ جناب شاہد حسین نے جلسہ کی کارروائی چلائی ۔ دو بہ دو ملاقات پروگرام میں والدین اور دوسرے سرپرستوں کے علاوہ جناب ماجد انصاری ‘ محترمہ ثمینہ یاسمین ‘ محترمہ فریدہ حیدری ‘ اور دوسروں نے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور موثر انتظامات کی ستائش کی ۔ رجسٹریشن کا آغاز 10 بجے دن سے ہوا اور4 بجے شام تک جاری رہا ۔ آج لڑکوں کے 85 اور لڑکیوں کے 170 رجسٹریشن کئے گئے ۔ 79 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام کا شام 5 بجے اختتام ہوا ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف ‘ جناب ایم اے قدیر آگنائزنگ صدر ایم ڈی ایف نے ایس اے ایمپرئیل گارڈن ٹولی چوکی کے پروپرائیٹر جناب محمد معین الدین اور اسٹاف اور محکمہ پولیس ‘ اردو اخبارات اور ٹی وی چینلس کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ۔ میر انورالدین ‘ محمد برکت علی ‘ سید الیاس باشاہ ‘ سید ناظم الدین ‘ سید اصغر حسین‘ محمد احمد ‘ اے اے کے امین ‘ صالح بن عبداللہ باحاذق ‘ لطیف النساء ‘ رئیس النساء ‘ سیدہ تسکین ‘ شبانہ نعیم ‘ خدیجہ سلطانہ ڈاکٹر سیادت علی ‘ محمد فریدالدین ‘ کوثر جہاں ‘ ریحانہ نواز ‘ آمنہ فاطمہ ‘ مہرالنساء ‘ ثناء بیگم ‘ عبدالصمد خان ‘ اسماء بیگم ‘ شہناز فاطمہ ‘ اقراء فاطمہ ‘ مہک ‘ ڈاکٹر سلمی نے کونسلنگ کے فرائض انجام دیئے ۔ جناب محمد عبدالقدیر آرگنائزنگ پریسڈنٹ نے دو بہ ملاقات کے مکمل انتظامات کی نگرانی کی ۔ رجسٹریشن کاؤنٹر پر امتیاز ترنم ‘ افسر بیگم ‘ جبین احمد ‘ سیما ‘ آمنہ اور دوسروں نے پیامات کے رجسٹریشن کئے اس موقع پر ادارہ سیاست کی جانب سے علحدہ کمپیوٹر سیکشن قائم کیا گیاتھا ۔ 10 کمپیوٹرس پر مشتمل اس سیکشن میں والدین اور سرپرستوں نے فوٹوز اور بائیو ڈاٹا کا مشاہدہ کیا ۔ سیاست میٹرنٹی ڈاٹ کام کا علحدہ کاؤنٹر بنایاگیا جہاں شمیم ‘ یاسمین ‘ اور فاطمہ نے پیامات کے آن لائن رجسٹریشن کئے ۔فنکشن ہال میں انجنیئرنگ کاؤنٹر پر ایک بڑا اسکرین نصب کیا اس کی مدد سے والدین نے لڑکوں کے فوٹوز اور بائیوڈاٹا کا نظارہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT