Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی بیاہ میں رسومات اور اسراف سے بچنے جمعیت القریش کا فیصلہ

شادی بیاہ میں رسومات اور اسراف سے بچنے جمعیت القریش کا فیصلہ

تقریب سانچق کی مخالفت، مہمانوں کی ایک کھانا اور ایک میٹھے سے ضیافت: محمد سلیم
حیدرآباد۔29 ۔ جنوری (سیاست نیوز) آل انڈیا جمعیت القریش گریٹر حیدرآباد یونٹ کا اجلاس آج حیدرآباد میں صدرنشین وقف بورڈ و صدر جمعیت محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں شادی بیاہ کے موقع پر خرافات، بیجا رسومات اور اسراف سے بچنے کیلئے بعض اہم فیصلے کئے گئے۔ جمعیت القریش برادری میں نکاح کی تقاریب مقررہ وقت پر منعقد کرنے کے علاوہ آتشبازی ، بیانڈ باجہ ، آرکسٹرا سے اجتناب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس نے صدرنشین وقف بورڈ کی جانب سے معاشرہ میں برائیوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں شروع کی گئی مہم کی تائید کی گئی۔ قریش برادری کی شادیوں میں ایک کھانا اور ایک میٹھا سے مہمانوں کی تواضع کی جائے گی۔ اس شرط پر سختی سے عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قریش برادری کے کسی فرد کی جانب سے شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جمعیت القریش سخت کارروائی کرے گا۔ محمد سلیم نے بتایا کہ قریش برادری میں شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے موقع پر اسراف سے بچنے کیلئے زبردست مہم جاری ہے۔ سابق میں برادری کے ذمہ داروں نے کئی پابندیاں عائد کی تھی جن پر آج بھی عمل آوری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسراف سے بچتے ہوئے غریب افراد کی مدد کی جاسکتی ہے ۔ غریب خاندانوں کی لڑکیوں کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات دیر گئے تک تقاریب جاری رہنے سے مسلم معاشرہ کئی مسائل کا شکار ہے۔ نوجوان نسل رات بھر جاگنے سے صحت کے مسائل سے دوچار ہیں تو دوسری طرف کمسن بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت القریش نے خرافات کے خاتمہ کے ذریعہ دیگر مسلمانوں کیلئے مثال قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن تقاریب میں قواعد کی خلاف ورزی اور اسراف کیا جائے گا، جمعیت القریش کے عہدیدار بائیکاٹ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کو بیجا رسومات اور اسراف سے بچانے کیلئے سختی سے اقدامات کئے جائیں۔ شادی سے ایک دن قبل سانچق کی کوئی رسم نہیں ہوگی۔ اس رسم کے ذریعہ غیر ضروری رسومات انجام دی جاتی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ مسلمانوں میں اصلاحِ معاشرہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ علماء ، عوامی نمائندوں اور مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں کو اس سلسلہ میں آگے آنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیت القریش نے مسلم معاشرہ کیلئے مثال پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ دوسروں کو عمل کی ترغیب ہو۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں روپئے بیجا رسومات پر خرچ کئے جارہے ہیں جس سے مسلمانوں کی معیشت پر اثر پڑ رہا ہے۔ نوجوان نسل کو رات بھر جاگنے سے روکنے کیلئے تقاریب کا جلد اختتام ضروری ہے۔ اجلاس میں جمعیت القریش کے قائدین مبین چودھری ، بشیر قریشی، عتیق قریشی، اشرف قریشی، عبدالقادر قریشی، منیر قریشی، معین الدین قریشی اور دوسروں نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT