Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی بیاہ کی تقاریب رات 12 بجے مکمل کرلی جائیں

شادی بیاہ کی تقاریب رات 12 بجے مکمل کرلی جائیں

برائیوں کو روکنے صدرنشین وقف بورڈ کی مہم ، 23 جنوری کو پولیس عہدیداروں کے ساتھ ا جلاس
حیدرآباد۔16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) شادی بیاہ کے موقع پر بیجا رسومات اور اسراف کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی معاشرتی خرابیوں اور برائیوں کو روکنے کیلئے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے پولیس ، قاضیوں اور رضاکارانہ تنظیموں کے تعاون سے تحریک کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ شادی بیاہ کی تقاریب کے مقررہ وقت پر انعقاد اور رات 12 بجے تک تقریب کے اختتام کے لئے پابند کرنے 23 ڈسمبر کو پولیس عہدیداروں اور قاضیوں کے ساتھ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس کا مقصد تمام فنکشن ہالس کو رات 12 بجے بہرصورت بند کرنے کی ہدایت دینا ہے تاکہ مقررہ وقت پر تقاریب منعقد ہو اور ناچ گانے اور دیگر فرسودہ رسومات سے بچا جاسکے ۔ نکاح کا انعقاد بعد مغرب ہونا چاہئے اور مہمانوں کی تواضع 12 بجے تک مکمل کرتے ہوئے تقریب ختم کی جائے۔ اس مہم کے ذریعہ نہ صرف بیانڈ باجے، آرکیسٹرا اور دیگر لغویات کو روکا جاسکتا ہے بلکہ نوجوانوںکو برائیوں سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات دیر گئے تک کی تقاریب سے مسلمانوں کی معیشت متاثر ہورہی ہے۔ اسراف کے بجائے اسی رقم کو غریب لڑکیوں کی شادی پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیانڈ باجے اور ناچ گانے کے دوران ہتھیاروں کے استعمال سے کئی حادثات پیش آرہے ہیں۔ حال ہی میں تلوار بازی نے ایک نوجوان کی جان لے لی ہے ۔ بعض مقامات پر ریوالور سے فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ مقررہ وقت پر تقاریب کے انعقاد سے نوجوان نسل کو راتوں میں جاگنے سے روکا جاسکتا ہے۔ دیر رات تک تقاریب میں شرکت کے نتیجہ میں بچوں کی تعلیم اور سرپرستوں کی دفاتر کو روانگی متاثر ہورہی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون اور ویسٹ زون سے انہوں نے اس مسئلہ پر بات چیت کی ۔ پولیس عہدیداروں نے شادی خانوں کو رات 12 بجے تک کی مہلت کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ اگر مسلم تنظیمیں اس تحریک کی تائید کریں تو پولیس سختی کے ساتھ عمل کرنے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 23 ڈسمبر کے اجلاس میں علماء اور عوامی نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ محمد سلیم نے کہا کہ بنگلور اور مہاراشٹرا میں رات 11.30 بجے تقریب ختم ہوجاتی ہے اور شادی خانے کے مالکین اس پر سختی سے عمل کر رہے ہیں جبکہ حیدرآباد میں فجر تک بیانڈ باجے اور جلوس کے ساتھ واپسی ہوتی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ نماز فجر کو ترک کرتے ہوئے دوپہر تک نیند آج کل نوجوانوں کی عادت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسراف کو روکتے ہوئے مسلم معاشرہ کو معاشی طور پر پسماندگی سے بچایا جاسکتا ہے۔ اسراف کیلئے لوگ قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیجا رسومات کو ترک کرتے ہوئے اور مقررہ وقت پر شادیوں کے انعقاد کے ذریعہ سماجی برائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ ایک دردمند شہری اور ایک عام مسلمان کی حیثیت سے ملی جذبہ کے ساتھ اس تحریک کا آغاز کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تجویز کو مسلمانوں کی تائید حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT