Saturday , July 21 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی خانوں میں پلاسٹک اشیاء پر عنقریب پابندی

شادی خانوں میں پلاسٹک اشیاء پر عنقریب پابندی

ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کی کوشش ، شعور بیداری مہم چلانے محکمہ بلدیہ کا فیصلہ
حیدرآباد۔27مارچ(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پلاسٹک کے گلاس اور پلیٹ میں کھانے کے اشیاء کے استعمال کے خلاف خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے تمام زونل کمشنرس کے علاوہ متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ ماہ اپریل کے دوران شادی کے مہورت زیادہ ہیں اسی لئے وہ شادی خانوں میں پلاسٹک کے ان اشیاء کے استعمال کے نقصانات کے سلسلہ میں مہم چلائیں تاکہ عوام میں شعور اجاگر کیا جاسکے۔بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ معمولی پلاسٹک جو کہ انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصاندہ ہے اس کے نقصانات سے محفوظ رہنے کیلئے ان کے استعمال کو مکمل ترک کرنے کی مہم چلائی جا ئے گی۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے مطابق پلاسٹک کے کپ‘ گلاس‘ پلیٹ اور چمچ جو کہ غیر معیاری پلاسٹک سے تیار کئے جاتے ہیں ان کا سب سے زیادہ استعمال شادی بیاہ کی تقاریب میں ہوتا ہے اور شادی خانو ںمیں اس طرح کی اشیاء بڑی بھاری تعداد میں استعمال کی جا رہی ہیں جو کہ غیر قانونی ہے۔کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے بتایا کہ 50 مائیکرونس سے کم کی پلاسٹک کے استعمال پر عائد پابندی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے حصہ کے طور پر یہ مہم چلائی جائے گی تاکہ شہریان حیدرآباد کے حفظان صحت کو یقینی بنایا جاسکے۔انہو ںنے بتایا کہ اپریل کے دوسرے ہفتہ میں شادیوں کے مہورت زیادہ ہیں اسی لئے اس سے قبل ہی شادی خانوں کے انتظامیہ سے ڈپٹی کمشنرس کو ملاقات کرنے اور پلاسٹک کے گلاس‘ کپ‘ کٹورے اور پلیٹ کے استعمال کو ترک کرنے کی تاکید کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنرس شادی خانوں کے انتظامیہ سے شخصی طور پر ملاقات کرتے ہوئے انہیں اس بات کی تاکید کریں گے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے شادی خانہ کے انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا جواز بھی بلدیہ کے پاس موجود ہے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شہر حیدرآباد کے بلدی حدود میں 800 سے زیادہ پلاسٹک کی صنعتیں موجود ہیں لیکن جی ایچ ایم سی اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کے عہدیداراس بات کا پتہ لگانے سے قاصر ہیں کہ کن مقامات پر 50 مائیکرونس سے کم کی پلاسٹک اشیاء تیار کی جا رہی ہیں لیکن بہت جلد ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT