Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی خانوں کے اوقات متعین کرنے پر غورو خوض

شادی خانوں کے اوقات متعین کرنے پر غورو خوض

ملت اسلامیہ اور علماء کرام سے مشاورت کا آغاز، محکمہ پولیس کی تجویز
حیدرآباد 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر میں موجود شادی خانوں کے لئے وقت کا تعین کے متعلق پولیس سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ پولیس کی جانب سے شہری علاقوں میں موجود شادی خانوں کو تجارتی زمرہ میں شامل کرتے ہوئے دیگر تاجرین کی طرح 12 بجے بند کروانے کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے۔ حالیہ عرصہ میں شادی خانوں میں پیش آئے جھگڑوں کے علاوہ قتل کا واقعہ پولیس کی آنکھیں کھول چکا ہے۔ پولیس کی جانب سے شادیوں کی تقاریب کو اندرون وقت مکمل کرنے کے سلسلہ میں جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ تقاریب میں کسی بھی طرح بدمزگی پیدا نہ ہو اور نہ ہی اِس طرح کے واقعات رونما ہونے پائے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب محکمہ پولیس کی جانب سے اِس سلسلہ میں ذمہ داران ملت اسلامیہ اور علمائے کرام سے مشاورت کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ پولیس نے نکاح کی تقاریب میں کسی بھی طرح کی راست مداخلت سے خود کو بچانے کے لئے علماء سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اُن سے مشاورت اور اُن کی جانب سے دیئے جانے والے احکام کو سختی سے نافذ کرنے میں کوئی دشواریاں پیدا نہ ہونے پائیں۔ محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے علمائے کرام سے اِس بات کا استفسار کیا گیا ہے کہ آیا رات دیر گئے تک نکاح کی تقاریب جاری رکھنا اور نکاح کی تقاریب کے نام پر آتشبازی، سامع نوازی، آرکسٹرا، رقص وغیرہ کی کھلی چھوٹ فراہم کرنا کہاں تک درست ہے؟ اور اگر یہ اعمال درست نہیں ہیں تو پھر اِن پر کس طرح روک لگائی جانی چاہئے۔ محکمہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی اِس کارروائی کی مختلف گوشوں سے ستائش کی توقع کی جارہی ہے لیکن بعض شادی خانوں کے مالکین اِس عمل کی تجارتی بنیادوں پر مخالفت کرسکتے ہیں۔ اِس بات پر بھی پولیس کی جانب سے غور کیا جارہا ہے تاکہ کسی بھی طرح کی مخالفت کے بغیر تقاریب کے پُرسکون انعقاد کو یقینی بنایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر کے علاقوں میں محکمہ پولیس کی جانب سے چلائے گئے ’چبوترہ مشن‘ کے دوران جو باتیں منظر عام پر آئی ہیں اُس کی بنیاد پر ہی پولیس نے اِس مہم کے متعلق غور کرنا شروع کیا ہے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ چبوترہ مشن کے دوران جب نوجوانوں کو رات دیر گئے روکا جارہا تھا تو بیشتر نوجوان یہ دعویٰ کررہے تھے کہ وہ  شادی کی تقریب سے واپس ہورہے ہیں۔ اِس طرح کے جوابات کی بنیاد پر نوجوانوں کو چھوڑا جارہا تھا لیکن رات دیر گئے تک جاری رہنے والی تقاریب نوجوانوں کے مستقبل کے بگاڑ کے علاوہ شہر کے امن و امان میں نقص پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ جس کی مثال حالیہ عرصہ میں ولیمہ کی تقریب میں پیش آیا قتل کا واقعہ اور اِسی طرح کے کئی واقعات جو معمولی باتوں پر جھگڑوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں وہ بھی موجود ہیں۔ پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نکاح کی تقاریب کو علماء کی تجاویز کے حصول کے بعد مخصوص وقت تک کے لئے معین کرنے کے متعلق سخت گیر اقدامات پر غور کیا جائے گا اور اِس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ کن قوانین کے ذریعہ شادی خانوں کو وقت کا پابند بنایا جاسکتا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار اِس سلسلہ میں شہر کی نمائندہ شخصیتوں اور کئی ایسے افراد سے بھی مشاورت کررہے ہیں جو مخالف جہیز مہم کے علاوہ نکاح کو آسان کرنے کے سلسلہ میں شعور بیداری مہم میں مصروف ہیں۔ اگر محکمہ پولیس کی جانب سے اِس منصوبہ پر عمل آوری یقینی بنائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کئی مسائل بالخصوص وقت پر نکاح اور طعام کی صورت میں وقت پر مہمانوں کی آمد اور وقت پر تقریب کے اختتام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ محکمہ پولیس کو اس بات کی پوری اُمید ہے کہ علمائے کرام اِس سلسلہ میں پولیس سے تعاون کرتے ہوئے رات دیر گئے تک جاری رہنے والی تقاریب کے خاتمہ کو یقینی بنائیں گے چونکہ اِس طرح کی تقاریب معاشرتی بگاڑ کا بھی باعث بن رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT