Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم ، آدھار کے بغیر بھی درخواستوں کی وصولی

شادی مبارک اسکیم ، آدھار کے بغیر بھی درخواستوں کی وصولی

کلکٹرس کو ہدایت ، آئندہ چار ماہ میں 20 ہزار مسلم لڑکیوں کی شادی کا نشانہ : محمود علی

کلکٹرس کو ہدایت ، آئندہ چار ماہ میں 20 ہزار مسلم لڑکیوں کی شادی کا نشانہ : محمود علی
حیدرآباد۔/6ڈسمبر، (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی نے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ آدھار کارڈ کے بغیر بھی ’شادی مبارک‘ اسکیم کی درخواستوں کو قبول کریں۔ اسکیم کے سلسلہ میں قواعد میں سختی سے متعلق مختلف گوشوں سے کی گئی نمائندگی کے بعد جناب محمود علی نے ضلع کلکٹرس اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کی۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ شادی مبارک اسکیم کیلئے آدھار کارڈ کے لزوم کو ختم کیا جائے اور اس سلسلہ میں تمام ایم آر اوز اور آر ڈی اوز کو ہدایات جاری کی جائیں۔ جناب محمود علی نے کہا کہ اسکیم سے استفادہ کیلئے جو قواعد طئے کئے گئے تھے اس میں آدھار کارڈ کی پیشکشی کو شامل کیا گیا حالانکہ اقلیتی خاندانوں کیلئے یہ لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی اور لڑکے کے رہائشی ثبوت کے طور پر راشن کارڈ یا ووٹر شناختی کارڈ کافی ہوگا۔ جناب محمود علی نے کہا کہ ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی گئی کہ امیدواروں کو مذہب سے متعلق سرٹیفکیٹ اور انکم سرٹیفکیٹ ایک ہی دن میں جاری کردیں۔ اس سلسلہ میں کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ضلع کلکٹرس نے تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں ایم آر اوز اور ریونیو ڈیویژن آفیسرس کو پابند کریں گے۔ جناب محمود علی نے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اسکیم سے استفادہ کیلئے جو شرائط مقرر کئے گئے ہیں اس میں تبدیلی کرتے ہوئے آدھار کارڈ کی شرط کو نکال دیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت کم افراد کے پاس آدھار کارڈ موجود ہیں اور ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے آدھار کارڈ ابھی تک جاری نہیں کئے گئے۔ غریب مسلم خاندانوں کو اس اسکیم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کیلئے تلنگانہ حکومت نے آدھار کارڈ کی پیشکشی کے لزوم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ اس اسکیم سے استفادہ کی شرائط انتہائی آسان ہیں اور عہدیداروں کو بھی چاہیئے کہ وہ درخواستوں کی قبولیت کے سلسلہ میں نئی شرائط مسلط نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’ می سیوا ‘ مراکز پر آن لائن درخواستیں داخل کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتی بہبود کے دفاتر اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے دفتر میں بھی درخواستوں کی قبولیت کا انتظام کیا گیا ہے۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ حکومت آئندہ چار ماہ میں 20,000 شادیوں کے لئے امداد کی فراہمی کا نشانہ مقرر کرچکی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید بجٹ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بہت جلد اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے کلکٹرس کے ساتھ شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبر کو مشورہ دیا کہ وہ قواعد میں نرمی سے متعلق احکامات سے تمام متعلقہ عہدیداروں کو واقف کرائیں۔

TOPPOPULARRECENT