Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم ، جعلی دستاویزات سے 8 لاکھ روپئے کی دھاندلی

شادی مبارک اسکیم ، جعلی دستاویزات سے 8 لاکھ روپئے کی دھاندلی

ایک اور دھوکہ باز گرفتار ، منڈل سطح پر درخواستوں کی جانچ ابھی جاری
حیدرآباد۔/12اپریل، ( سیاست نیوز) اینٹی کرپشن بیورو نے سرور نگر اور راجندر نگر منڈلوں میں شادی مبارک اسکیم میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور لاکھوں روپئے کی وصولی کے سلسلہ میں ایک اور گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اینٹی کرپشن بیورو حیدرآباد رینج مسٹر پربھاکر نے آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پہاڑی شریف میں واقع خان موبائیل کے مالک 29سالہ اعجاز اللہ خاں فرزند رحمت اللہ خاں مرحوم ساکن نیو بابا نگر بالا پور کو گرفتار کرلیا گیا اور اس نے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس رنگاریڈی کے گرفتار سینئر اسسٹنٹ طاہر الدین کے ساتھ مل کر دھاندلیوں کا اعتراف کیا۔ اے سی بی کی تفتیش میں اعجاز اللہ خاں نے بتایا کہ اس نے جعلی دستاویزات کے ساتھ شادی مبارک اسکیم کی 16درخواستیں طاہر الدین سینئر اسسٹنٹ بی ایم ڈبلیو رنگاریڈی کو داخل کیں جنہوں نے درخواستوں کی منظوری میں اہم رول ادا کیا۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ مجموعی طور پر 8لاکھ 16ہزار روپئے کی دھاندلی کی گئی ہے اور صرف 75درخواستوں کی جانچ میں یہ دھاندلیاں منظر عام پر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرورنگر اور راجندر نگر منڈلوں میں اسکیم میں زیادہ دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ مسٹر پربھاکر کے مطابق رنگاریڈی کے دیگر منڈلوں کی درخواستوں کی جانچ ابھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں درخواستوں کی جانچ کا کام چل رہا ہے اور جلد ہی نتائج منظر عام پر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رنگاریڈی میں گرفتار شدہ سینئر اسسٹنٹ طاہر الدین کے اثاثہ جات کی جانچ کی جارہی ہے۔ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ اعجاز اللہ خاں نے اپنی ہمشیرہ نسبتی قدسیہ بیگم کی درخواست شادی مبارک کے تحت داخل کی تھی اسوقت اس کی ملاقات طاہر الدین سے ہوئی جو درخواستوں کی جانچ کا انچارج تھا۔ طاہر الدین نے جانچ کیلئے 3000 روپئے اور رقم کی منظوری کے بعد 5000 روپئے حاصل کئے۔ بعد میں اس نے اعجاز اللہ خاں کو اس اسکام میں شامل کرلیا اور اس کی ملاقات بوگس انکم سرٹیفکیٹ تیار کرنے اور بینک میں اکاؤنٹ کھولنے والے افراد سے کرائی۔ تحقیقات میں یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ اسکیم کا آغاز اگرچہ اکٹوبر 2014میں ہوا لیکن اعجاز اللہ نے 2013میں اپنی شادی کے دستاویزات استعمال کرتے ہوئے شادی مبارک اسکیم سے رقم حاصل کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے ایک درخواست میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو اور دوسری درخواست میں اپنی تصویر کے ساتھ دوسری عورت کی تصویر لگا کر بھی اسکیم سے رقم حاصل کی۔ 3 درخواستوں میں اعجاز اللہ نے خود کو بحیثیت دولہا ظاہر کیا اور 2 درخواستوں میں تصویر تو اپنی رکھی لیکن نام تبدیل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گروہ نکاح نامہ میں اپنے طور پر تحریف کا ماہر تھا۔ چونکہ درخواستوں کی جانچ طاہر الدین کے ہاتھ میں تھی لہذا پکڑے جانے کا سوال ہی نہیں تھا۔ اے سی بی کے عہدیداروں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر میں آدھار کارڈ کے بارے میں صحیح جانچ نہیں کی جارہی ہے۔ یہ گروہ مغلپورہ اور چندرائن گٹہ سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ طاہر الدین ایک درخواست کی منظوری کیلئے 17000 تا 20000 روپئے کمیشن حاصل کررہا تھا۔ ڈی ایس پی کے مطابق طاہر الدین درخواست گذاروں کو ہدایت دیتا کہ وہ اعجاز اللہ خاں کو 3 تا 4ہزار روپئے ادا کریں اور ہر درخواست کی جانچ کیلئے اسے 500 روپئے دیئے جائیں۔ طاہر الدین نے ابھی تک تقریباً 100 درخواستوں کی اعجاز اللہ خاں کے ذریعہ یکسوئی کرائی۔ ڈی ایس پی کے مطابق اعجاز کسی ایک خاتون کے آدھار کارڈ کی زیراکس حاصل کرتے ہوئے دیگر جعلی دستاویزات تیار کرتا اور بینک اکاؤنٹ بھی کھولا جاتا۔ جعلی نکاح ناموں کے ذریعہ اس رقم کو حاصل کرنے میں مدد ملی۔

TOPPOPULARRECENT