Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم ، دیڑھ ماہ سے درخواست گذار کو امداد کی عدم اجرائی

شادی مبارک اسکیم ، دیڑھ ماہ سے درخواست گذار کو امداد کی عدم اجرائی

محکمہ فینانس کے احکامات نظر انداز ، ٹریژری کے عہدیداران ذمہ دار ، اسپیشل سکریٹری کے احکامات بھی بے خاطر

محکمہ فینانس کے احکامات نظر انداز ، ٹریژری کے عہدیداران ذمہ دار ، اسپیشل سکریٹری کے احکامات بھی بے خاطر
حیدرآباد ۔11 ۔مئی (سیاست نیوز) شادی مبارک اسکیم کے تحت گزشتہ دیڑھ ماہ سے ایک بھی درخواست گزار کو امدادی رقم جاری نہیں کی گئی۔ اس صورتحال کے لئے تلنگانہ حکومت کی ٹریژری ذمہ دار ہے جو محکمہ فینانس کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے شادی مبارک اسکیم کو گرین چیانل میں شامل کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ محکمہ فینانس نے دو مرتبہ تحریری طور پر ٹریژری کو ہدایت دی کہ شادی مبارک کو گرین زمرہ میں بحال کیا جائے تاکہ منظورہ درخواستوں کیلئے امدادی رقم کی اجرائی ممکن ہوسکے ۔ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال بھی اس اسکیم کو گرین زمرہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ محکمہ ٹریژری کے تساہل اور ہٹ دھرمی کے سبب 2335 منظورہ درخواستوں کو امدادی رقم جاری نہیں کی جاسکی۔ جاریہ مالیاتی سال کے آغاز یعنی اپریل سے ابھی تک شادی مبارک اسکیم کے تحت 6913 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں 4031 کی جانچ باقی ہے۔ 2335 درخواستوں کو جانچ کے بعد منظوری دیدی گئی لیکن امدادی رقم جاری نہیں کی گئی۔ منظورہ درخواستوں میں عادل آباد کی 304 ، حیدرآباد 565 ، کریم نگر 135 ، کھمم 90 ، میدک 225 ، نلگنڈہ 164 ، نظام آباد 230 ، رنگا ریڈی 490 اور ورنگل 132 شامل ہیں۔ محبوب نگر میں 557 درخواستیں داخل کی گئیں لیکن ابھی تک ایک بھی درخواست کو منظوری نہیں دی جاسکی۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے حکومت کو ٹریژری حکام کے رویہ کے خلاف شکایت کی اور سرکاری احکامات پر عمل آوری نہ کرنے پر کارروائی کی سفارش کی ہے۔ گزشتہ سال اس اسکیم کے تحت 5414 درخواستوں کو منظوری دیتے ہوئے امدادی رقم جاری کی گئی تھی۔ گزشتہ مالیاتی سال کے اختتام کے ساتھ ہی ٹریژری میں اسکیم کو گرین زمرہ سے خارج کردیا، جس پر حکومت نے دوبارہ احکامات جاری کئے لیکن دیڑھ ماہ کے عرصہ سے ٹریژری کے حکام خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اسی دوران ڈائرکٹر ا قلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر نے بتایا کہ 4 اضلاع میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس موجود نہیں ہیں، جس کے باعث درخواستوں کی جانچ کی کارروائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں اقلیتی بہبود کے تحت اسٹاف کی کمی کے سبب ہی اسکیم پر عمل آوری کی رفتار انتہائی سست ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسکیم سے استفادہ کے لئے شرائط میں نرمی کی ہے اور پیدائشی سرٹیفکٹ کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ کو قابل قبول قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT