Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم میں بے قاعدگیوں کا طلبہ پرمنفی اثر

شادی مبارک اسکیم میں بے قاعدگیوں کا طلبہ پرمنفی اثر

حیدرآباد۔/28نومبر، ( سیاست نیوز) ’شادی مبارک‘ اسکیم میں مبینہ بے قاعدگیوں کا اثر اقلیتی طلباء کیلئے فیس باز ادائیگی اسکیم پر پڑا ہے۔ محکمہ پے اینڈ اکاؤنٹس نے فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپ سے متعلق تمام بلز کو منسوخ کردیا اور عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ از سر نو اپنے بلز داخل کریں۔ اس اقدام سے دارالحکومت حیدرآباد میں اقلیتی طلباء کے فیس بازادائیگی کی اجرائی کا کام ٹھپ ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف حیدرآباد میں فیس بازادائیگی اسکیم کے تحت 200کروڑ روپئے کی اجرائی باقی ہے جو تعلیمی سال 2014-15 کی منظورہ درخواستوں پر مبنی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے منظورہ درخواستوں اور کالجس کی تفصیلات کے ساتھ بلز پے اینڈ اکاؤنٹ میں داخل کردیئے تھے تاہم شادی مبارک اسکیم میں زائد رقم کی اجرائی ثابت ہونے پر عہدیداروں نے تمام بلز کو منسوخ کردیا۔ اگرچہ عہدیدار چاہتے تو فیس بازادائیگی اور اسکالر شپ کے بلز کو منظوری دے سکتے تھے لیکن انہوں نے اس میں بھی بے قاعدگیوں کے اندیشے کے تحت بلز کی منسوخی کا سخت گیر قدم اٹھایا جس کے نتیجہ میں حیدرآباد میں کئی ہزار طلبہ فیس بازادائیگی سے محروم ہیں جس کا اثر راست طور پر کالجس پر پڑا ہے۔ کالجس کے انتظامیہ رقم کی اجرائی کیلئے اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رقومات کی اجرائی میں تاخیر کے سبب معاشی بحران پیدا ہوچکا ہے اور انہیں بینکوں کو سود کی ادائیگی میں دشواری ہورہی ہے۔ کئی کالجس نے بینکوں سے بھاری قرض حاصل کرتے ہوئے کالجس قائم کئے ہیں اور وہ فیس بازادائیگی کی رقم سے سود ادا کرتے ہیں۔ اب جبکہ فیس باز ادائیگی کے بلز کی منظوری باقی ہے لہذا کالجس نے طلباء کو اسنادات جاری کرنے سے انکارکردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فیس کی اجرائی تک وہ اسنادات جاری نہیں کریں گے۔ اس صورتحال سے طلباء کافی پریشان ہیں کیونکہ کئی طلباء ڈگری کی تکمیل کے باوجود سرٹیفکیٹ سے محروم ہیں اور وہ ملازمت یا پھر اعلیٰ تعلیم کیلئے کوئی پیشرفت کرنے سے قاصر ہیں۔ انہیں بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم یا پھر کسی کمپنی میں ملازمت کیلئے تعلیمی اسنادات پیش کرنا ضروری ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی تاخیر کے سبب کالجس اور طلباء دونوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف حیدرآباد میں فیس بازا دائیگی کے بلز کو پی اینڈ اکاؤنٹ نے منسوخ کردیا جبکہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ ٹریژری کی جانب سے بلز کو منظوری دی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے فیس باز ادائیگی کیلئے 425کروڑ روپئے کا بجٹ مقرر کیا جس میں سے تاحال صرف 85کروڑ 54لاکھ جاری کئے گئے۔ ریاستی حکومت کی پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کا بجٹ 100کروڑ ہے جس میں سے ابھی تک 23کروڑ روپئے جاری ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT