Monday , June 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / شادی مبارک اسکیم پر سُست رفتار عمل آوری، بیداری ضروری

شادی مبارک اسکیم پر سُست رفتار عمل آوری، بیداری ضروری

نظام آباد:7؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ کی ریاستی حکومت نے غریب اور مستحق اقلیتی مسلم طبقے کی لڑکیوں کی شادی بیاہ میں سہولت کی خاطر شادی مبارک اسکیم کے تحت جس اختراعی اسکیم کا اعلان کیا تھا، اس سے استفادہ ساری ریاست کے بشمول ضلع نظام آباد میں بھی مایوس کن ہے۔ اس اسکیم کے لئے ضلع نظام آباد کو 1634درخواستوں کا کوٹہ مقرر ہ

نظام آباد:7؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ کی ریاستی حکومت نے غریب اور مستحق اقلیتی مسلم طبقے کی لڑکیوں کی شادی بیاہ میں سہولت کی خاطر شادی مبارک اسکیم کے تحت جس اختراعی اسکیم کا اعلان کیا تھا، اس سے استفادہ ساری ریاست کے بشمول ضلع نظام آباد میں بھی مایوس کن ہے۔ اس اسکیم کے لئے ضلع نظام آباد کو 1634درخواستوں کا کوٹہ مقرر ہے جس کے لئے 8کروڑ33 لاکھ34ہزار روپئے کی رقم مختص کی گئی ہے لیکن تاحال صرف370 درخواستیں ہی داخل کی گئیں ہیں جس پر بعد انکوائیری 200کے قریب درخواست گذاروں کے اکائونٹ میں راست51ہزار فی کس رقم جمع کی گئی ہے۔ سال 2014-15کا مالیاتی سال مارچ میں ختم ہونے والا ہے اور سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ماہ فروری اور مارچ کے اوائل سے ہی بجٹ فریز کرنا شروع کردیا جاتا ہے۔ اس اسکیم سے ضلع نظام آباد میں اور دیگر اضلاع میں خاطر خواہ استفادہ نہ ہونے کی اصل وجہہ عوام میں اسکیم کے تعلق سے مناسب شعور کی عدم بیداری ہے۔ اس ضمن میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبر نے حیدرآباد سکریٹریٹ میں مذہبی جماعتوں کے ذمہ داروں کو طلب کرتے ہوئے دیہی علاقوں اور اسکیم کے ٹارگٹ عوام میں شعور بیدار کرانے اور زیادہ سے زیادہ درخواست فارمس کے بروقت ادخال کو یقینی بنانے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ حیدرآباد کی ایک مذہبی جماعت کے ذمہ دار کی ہدایت پر نظام آباد میں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد نے ضلع مائناریٹی ویلفیر آفیسرنے جناب چندر شیکھر سے ملاقات کی اور ان سے اسکیم سے متعلق شعور بیداری کے ضمن میں بات کی۔اور یہ تجویز رکھی کہ ضلع نظام آباد کے دینی ‘ملی ‘سماجی‘سیاسی و فلاحی کام کرنے والے ذمہ داروں کا اجلاس طلب کیا جائے اور اس اسکیم کے مناسب استعمال کے لئے عوام میں شعور بیدار کرنے تعاون کی اپیل کی جائے ۔ اس موقع پر جناب چندر شیکھر نے اردو میں اسکیم کی تفصیلات سے متعلق اشتہارات دئے۔ جسے دیہی اور شہری علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت اکٹوبر 2014 کے بعد شادی ہونے والی یا شادی طے ہونے والی لڑکی کے اکائونٹ میں 51ہزار روپے داخل کئے جائیں گے۔ اس کے لئے درخواست گذار کو تاریخ پیدائیش کا سرٹیفکیٹ‘ذات کا سرٹیفکیٹ‘سرپرست کی آمدنی کا سرٹیفکیٹ‘لڑکی اور لڑکے کا آدھار کارڈ‘شادی کا رقعہ ہو۔ مسلم طبقہ کی لڑکی جس کی عمر 18سال سے ذائد ہو اور اس کا تعلق ریاست تلنگانہ سے ہو تو وہ درخواست کی اہل ہے۔ درخواست کسی بھی می سیوا کے ذریعے ویب سائٹ http://telanganaepass.cgg.gov.in/پر داخل کی جائے۔ درخواست گذار کے گھر انکوائری افسران آئیں گے اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد رقم اکائونٹ میں داخل ہوگی۔ اس ضمن میں جن رکاوٹوں کی شکایت عام ہے ان میں ضلع نظام آباد میں اکثر می سیوا مراکز کا بند ہوجانا۔ پیدائیش کا صداقت نامہ نہ ہونا اور عوام میں اسکیم کے تعلق سے عدم شعور عام ہے۔ اس ضمن میں نظام آباد میں کام کر رہی مختلف دینی و فلاحی تنظیموں‘ مساجد کے امام ‘ علمائے کرام‘اساتذہ‘ اقلیتی قائدین اور سینئیر سٹیزن حضرات سے بھی گذارش ہے کہ وہ عوام میں اس اسکیم کے تعلق سے شعور بیدار کرنے ٹھوس اقدامات کریں۔ محلے کی مساجد سے اسکیم کی تفصیلات سے واقف کرایا جائے۔ اقلیتی طبقہ کے می سیوا پر کم قیمت پر درخواستین آن لائن کرانے کی سہولت کی جائے۔ پیدائش کے صداقت نامے کی افیڈیوٹ بنانے کا انتظام کرایا جائے۔ اور بر وقت درخواست کے ادخال کو یقینی بنایا جائے۔ اس اسکیم سے متعلق شعور بیداری مہم چلانے کے لئے ایک اجلاس طلب کرنے اور ایک ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کے ضمن میں مفتی سعید اکبر اور مولاناو ولی اللہ اور دیگر ملی و فلاحی اداروں کے ذمہ داروں سے اپیل بھی کی گئی ہے۔ مقامی کارپوریٹرس اور وارڈ ممبرس و اقلیتی قائدین سے بھی گذارش کی جاتی ہے کہ و درخواست گذاروں کو درپیش مشکلات دور کرانے میں تعاون کرتے ہوئے اسکیم سے بھر پور استفادے کو یقینی بنائیں۔ دیہی علاقوں میں بھی اس اسکیم سے متعلق شعور پیدا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT