Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں رضاکارانہ تنظیموں کا اہم رول

شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں رضاکارانہ تنظیموں کا اہم رول

حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری (سیاست نیوز) غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں محکمہ اقلیتی بہبود سے زیادہ رضاکارانہ تنظیمیں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔ حکومت نے جاریہ سال 20 ہزار غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس 51 ہزار روپئے امداد دینے کا فیصلہ کیا۔ اس اسکیم پر عمل آوری میں سست رفتاری کو دیکھتے ہوئے اقلیت

حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری (سیاست نیوز) غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں محکمہ اقلیتی بہبود سے زیادہ رضاکارانہ تنظیمیں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔ حکومت نے جاریہ سال 20 ہزار غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس 51 ہزار روپئے امداد دینے کا فیصلہ کیا۔ اس اسکیم پر عمل آوری میں سست رفتاری کو دیکھتے ہوئے اقلیتوں کی تعلیمی و سماجی ترقی کے سلسلہ میں سرگرم اداروں اور رضاکارانہ تنظیموں نیشعور بیداری کا بیڑہ اٹھایا۔ اکتوبر میں اس اسکیم کا آغاز ہوا اور گزشتہ تین ماہ کے دوران اسکیم پر عمل آوری کے جو نتائج برآمد ہو ئے ہیں، اسکا سہرا رضاکارانہ تنظیموں کے سر ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اسٹاف کی کمی ہے جس کے باعث وہ شعور بیداری کا کام انجام دینے سے قاصر ہے۔ اقلیتی بہبود کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے روزنامہ سیاست ، حیدرآباد زکوٰۃ اینڈ چیاریٹیبل ٹرسٹ اور دیگر تقریباً 12 غیر سرکاری تنظیموں نے اسکیم کے سلسلہ میں اقلیتوں میں شعور بیداری کے کام کا آغاز کیا۔ سیاست نے خصوصی ہیلپ لائین سنٹر قائم کرکے نہ صرف اس اسکیم کے بارے میں غریب مسلمانوں میں تفصیلات فراہم کی بلکہ درخواستوں کی آن لائین ادخال کا انتظام کیا۔ روزانہ بڑی تعداد میں غریب خاندان سیاست ہیلپ لائین سے رجوع ہوکر اسکیم کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں اور آن لائین درخواستیں داخل کر رہے ہیں۔ روزنامہ سیاست نہ صرف درخواستوں کے ادخال میں تعاون کر رہا ہے بلکہ ضروری اسنادات کے حصول کے سلسلہ میں رہنمائی کی جارہی ہے۔ سیاست نے اس اسکیم کے بارے میں اخبار کے ذریعہ بھی کافی تشہیر کی ہے اور اس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ اسی طرح حیدرآباد زکوٰۃ اینڈ چیاریٹیبل ٹرسٹ نے تمام 10 اضلاع میں اس اسکیم کے سلسلہ میں رہنمائی کیلئے خصوصی والینٹرس کا تقرر کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 20 سے زائد والینٹرس کو اس اسکیم کی تشہیر کی ذمہ داری دی گئی اور انہیں 2 وہیلرس گاڑیاں بھی فراہم کی گئیں۔ ٹرسٹ کی جانب سے ان کارکنوں کو تنخواہ بھی دی جارہی ہے۔ یہ کارکن تلنگانہ کے ہر موضع تک پہنچ کر وہاں مسلم خاندانوں سے ملاقات کرتے ہوئے شادی مبارک اور دیگر اسکیمات کے فوائد سے واقف کرا رہے ہیں۔ ہر مسجد میں ٹرسٹ کی جانب سے شادی مبارک اسکیم کی تفصیلات اور اس سلسلہ میں رہنمائی کیلئے ٹرسٹ کے عہدیداروں کے فون نمبرس آویزاں کئے ہوئے ہیں تاکہ عوام ربط پیدا کرتے ہوئے اسکیم سے استفادہ کرسکیں۔ واضح رہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے شہر اور اضلاع کی مساجد میں اپنے طور پر پمفلیٹس کی تقسیم اور اسکیمات کی تفصیلات پر مشتمل فلیکسی لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ابھی تک یہ کام شروع نہیں ہوسکا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار خود بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں رضاکارانہ تنظیموں کا اہم رول ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے روزنامہ سیاست اور دیگر بڑی رضاکارانہ تنظیموں سے اس اسکیم پر کامیاب عمل آوری کے سلسلہ میں تعاون کی خواہش کی تھی ۔ شعور بیداری کے نتیجہ میں ایس سی ، ایس ٹی طبقات سے زیادہ اقلیتی خاندانوں نے اسکیم سے استفادہ کیا ہے۔ 16 فروری تک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں جملہ 3994 درخواستیں رجسٹر کی گئی جن میں 2198 درخواستوں کو منظوری دی گئی اور 1639 خاندانوں میں امدادی رقم جاری کردی گئی۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے جاریہ سال 100 کروڑ کا بجٹ رکھا ہے ۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کی غریب لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں اعلان کی گئی کلیان لکشمی اسکیم کے تحت علی الترتیب 787 اور 242 خاندانوں کو امداد جاری کی گئی ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کا ماننا ہے کہ تلنگانہ میں محکمہ کے پاس منظورہ اسٹاف کی تعداد 100 سے بھی کم ہے جبکہ ایس سی ، ایس ٹی محکمہ جات میں ملازمین کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں رہنمائی کرنے والی تنظیموں کا ماننا ہے کہ حکومت کو مقررہ شرائط میں نرمی پیدا کرنی چاہئے۔ سخت شرائط کے سبب عوام کو اسکیم سے استفادہ میں دشواری ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT