Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں محکمہ فینانس رکاوٹ

شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں محکمہ فینانس رکاوٹ

2000 درخواستیں زیر التواء ، درخواست گذار دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں

2000 درخواستیں زیر التواء ، درخواست گذار دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں
حیدرآباد۔/14اپریل، ( سیاست نیوز) حکومت نے غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد کے سلسلہ میں شادی مبارک اسکیم کا اعلان کیا لیکن محکمہ فینانس کے رویہ کے سبب اس اسکیم پر تیز رفتار عمل آوری میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کی درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے اسے گرین چینل کے تحت شامل کیا تھا تاکہ منظورہ درخواستوں کیلئے راست طور پر امداد جاری کردی جائے لیکن محکمہ فینانس نے31مارچ کو مالیاتی سال کے اختتام کے ساتھ ہی گرین چینل منظوری کو روک دیا ہے جس کے سبب تلنگانہ میں 2000سے زائد درخواستیں ایسی ہیں جن کے لئے امدادی رقم جاری نہیں کی جاسکی۔ اس طرح اسکیم پر عمل آوری میں محکمہ فینانس کے عہدیداروں نے عملاً رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ حکومت نے جس وقت اسکیم کو گرین چینل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کردہ میمو میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں تھی کہ یہ صرف مالیاتی سال کے اختتام تک ہے۔ چونکہ یہ اسکیم جاریہ اسکیم ہے لہذا محکمہ فینانس کو جاریہ سال بھی اسے گرین چینل میں شامل رکھنا چاہیئے تھا لیکن عہدیداروں نے کسی وضاحت کے بغیر ہی گرین چینل منظوری کو روک دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اچانک فیصلہ کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کو رقم کی اجرائی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حیدرآباد میں تقریباً 700سے زائد ایسی درخواستیں ہیں جنہیں منظوری دے دی گئی لیکن امدادی رقم جاری نہیں کی جاسکی۔ اس طرح شادی مبارک اسکیم پر تیز رفتار عمل آوری میں محکمہ فینانس رکاوٹ بن چکا ہے۔ درخواست گذار امدادی رقم کی منظوری کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں کیونکہ ان کی درخواستوں کی جانچ مکمل کرتے ہوئے انہیں امداد کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ کئی ایسے خاندان ہیں جن کے لڑکیوں کی شادیاں آنے والے دنوں میں مقرر ہیں لیکن انہیں ابھی تک رقم جاری نہیں کی گئی۔ غریب خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر شادی سے قبل امدادی رقم جاری کردی جائے تو انہیں شادی کے انتظامات میں سہولت ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ فینانس نے شادی مبارک کے علاوہ کلیان لکشمی اسکیم کو بھی گرین چینل کے زمرہ سے علحدہ کردیا جس کے سبب ایس سی، ایس ٹی طبقات کی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد کی اجرائی متاثر ہوئی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے بتایا کہ ایسے وقت جبکہ اسکیم سے استفادہ کیلئے اقلیتی غریب خاندان بڑی تعداد میں رجوع ہورہے ہیں، عہدیداروں کی سرد مہری مناسب نہیں ہے۔ امدادی رقم کی اجرائی میں تاخیر سے اسکیم کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔ مستحق خاندان رقم کے سلسلہ میں نہ صرف دفاتر کے چکر کاٹ کررہے ہیں بلکہ عہدیداروں کو امیدواروں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف اضلاع میں موجود اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے دشواریوں کے سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کو واقف کروایا۔ محکمہ میں عہدیداروں کی کمی کے باوجود دیگر اداروں سے اسٹاف کو حاصل کرتے ہوئے درخواستوں کی جانچ کا کام مکمل کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ چیف منسٹر نے جاریہ سال اقلیتی بہبود کے مکمل بجٹ کو گرین چینل میں شامل کرنے کا تیقن دیا لیکن محکمہ فینانس نے گزشتہ سال اعلان کردہ شادی مبارک اسکیم کو ہی گرین چینل سے علحدہ کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT