شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کی رفتار انتہائی سست

محکمہ اقلیتی بہبود شعور بیداری میں ناکام ، امداد کے حصول کیلئے شرائط اہم رکاوٹ

محکمہ اقلیتی بہبود شعور بیداری میں ناکام ، امداد کے حصول کیلئے شرائط اہم رکاوٹ
حیدرآباد۔/13فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اگرچہ حکومت نے جاریہ سال 20ہزار غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد فراہم کرنے کا نشانہ مقرر کیا تھا لیکن اسکیم کے بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود شعور بیداری میں ناکام ثابت ہوا جس کے نتیجہ میں حیدرآباد سمیت تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں درخواستوں کی وصولی کی رفتار انتہائی سست ہے۔ حکومت نے جاریہ سال 2اکٹوبر سے اس اسکیم کا آغاز کیا تھا اور بجٹ میں 100کروڑ روپئے مختص کئے گئے اور 20کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے۔ اقلیتوں کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والی غریب لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد کے سلسلہ میں کلیان لکشمی اسکیم کا بھی آغاز ہوا لیکن اس اسکیم پر عمل آوری کی رفتار بھی شادی مبارک کی طرح سست ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 10اضلاع میں ابھی تک 3807 درخواستیں وصول ہوئیں جن میں سے 1967 درخواستوں کو امداد کا اہل قرار دیا گیا اور 1441 افراد کو فی کس 51ہزار روپئے کی رقم جاری کردی گئی۔ اس طرح حکومت کی جانب سے جاری کردہ 20کروڑ میں سے7کروڑ 34لاکھ روپئے جاری کئے گئے اب جبکہ جاریہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے حکومت کے نشانہ کی تکمیل کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شادی مبارک اسکیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی اور اس سلسلہ میں عہدیداروں کو ہدایات بھی جاری کی گئیں لیکن امداد کے حصول کیلئے جو شرائط مقرر کی گئی ہیں ان کی تکمیل غریب خاندانوں کیلئے ممکن نہیں۔ حکومت نے اگرچہ دلہے کے آدھار کارڈ کی پیشکشی کو مستثنیٰ قرار دیا لیکن اس سلسلہ میں باقاعدہ احکامات کی عدم اجرائی کے سبب عہدیدار آدھار کارڈ کی پیشکشی کیلئے اصرار کررہے ہیں۔ می سیوا سنٹرس پر بغیر آدھار کارڈ درخواستیں قبول نہیں کی جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ عوام نے شکایت کی کہ ایم آر اوز کے دفاتر سے انکم سرٹیفکیٹ کے حصول میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ سخت قواعد اس اسکیم پر تیزی سے عمل آوری میں اہم رکاوٹ ہیں۔ حیدرآباد میں ابھی تک 1063 درخواستیں وصول ہوئیں جن میں 479کو منظوری دی گئی جبکہ 256افراد میں امدادی رقم جاری کی گئی۔ عادل آباد میں 177، کریم نگر 95، کھمم 55، محبوب نگر 78، میدک 44، نلگنڈہ 93، نظام آباد 243، رنگاریڈی 237 اور ورنگل میں 83 درخواست گذاروں میں امدادی رقم جاری کی گئی۔ حکومت نے شادی مبارک سمیت دیگر اقلیتی اسکیمات کے بارے میں شعور بیداری کیلئے مساجد میں اسکیمات کی تفصیلات پر مشتمل فلیکسی بورڈ آویزاں کرنے اور پمفلٹ کی اجرائی کی ہدایت دی لیکن ابھی تک یہ کام ادھورا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پملفٹ اور فلیکسی بورڈ کے متن کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور حکومت سے منظوری کے بعد انہیں تیار کیا جائے گا اب جبکہ جاریہ ماہ بجٹ اجلاس کا آغاز ہوگا شادی مبارک اسکیم کے نشانہ کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔100کروڑ کے منجملہ اگر 20کروڑ بھی خرچ ہوجائیں تو یہ محکمہ کی اہم کامیابی ہوگی۔ کلیان لکشمی اسکیم کے تحت ایس سی طبقہ کی 2466 اور ایس ٹی طبقہ کی 1087 درخواستیں وصول ہوئیں جن میں علی الترتیب 584اور 110 درخواست گذاروں میں رقم جاری کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT