Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم کانگریس کا کارنامہ : محمد علی شبیر

شادی مبارک اسکیم کانگریس کا کارنامہ : محمد علی شبیر

ہزارہا درخواستیں التواء کا شکار ، حکومت کی لاپرواہی پر تنقید
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے شادی مبارک اسکیم کو کانگریس کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے ہزاروں درخواستوں کو زیر التواء رکھنے کا حکومت پر الزام عائد کیا ۔ ریاستی وزیر بی سی طبقات و جنگلات جوگو رامنا نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں صرف 25 ہزار روپئے دئیے جاتے تھے جب کہ ٹی آر ایس حکومت مسلم غریب لڑکیوں کے علاوہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے فی کس 75 ہزار روپئے کی مالی امداد فراہم کررہی ہے ۔ کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران محمد علی شبیر نے مسلمانوں ، ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کی جانب سے شادی مبارک اور کلیانہ لکشمی اسکیم کے لیے حکومت کو وصول ہونے والی درخواستوں اور اس کی یکسوئی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ درخواستوں پر غور کرنے کا نظام بہت سست ہے ۔ حکومت کو 1,33,830 درخواستیں وصول ہوئی ہیں ۔ جن میں 48,356 درخواستیں آج بھی حکومت کے پاس زیر التواء ہے ۔ قائد اپوزیشن نے حکومت کو مشورہ دیا ۔ جس طرح ٹی ایس آئی پاس کے درخواستوں کی 15 یوم میں یکسوئی ہورہی ہے ۔ اس طرح شادی مبارک اور کلیانہ لکشمی کے درخواستوں پر کارروائی کریں ۔ ان کے علم میں ایسی کئی شکایتیں آئی ہیں شادی کے بعد کئی لڑکیاں بچوں کو جنم دینے کے قریب ہے ، انہیں آج تک ان اسکیمات سے فائدہ نہیں پہونچایا گیا ۔ محمد علی شبیر نے اس اسکیم کو کانگریس کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں پہلے 15 ہزار پھر 25 ہزار روپئے دئیے گئے ۔ ٹی آر ایس حکومت تشکیل پانے کے بعد اس معاوضہ کی رقم کو بڑھاکر 51 ہزار روپئے اور پھر 75 ہزار روپئے کیا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل راملو نائیک نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں استعمال شدہ پرانا ساز و سامان دیا جاتا تھا ۔ پلنگ تو ایک ہفتہ میں ٹوٹ جاتا تھا جس کو بعد میں جمعرات بازار میں فروخت کردیا جاتا تھا ۔ ریاستی وزیر بی سی ویلفیر جوگو رامنا نے کہا کہ شادی مبارک اور کلیانہ لکشمی کے لیے جو بھی درخواستیں وصول ہورہی ہیں اس کی عاجلانہ یکسوئی کی جارہی ہے ۔ حکومت کے پاس صرف 40,890 درخواستیں زیر التواء ہیں ۔ شادی مبارک اسکیم میں چند دھندلیاں منظر عام پر آنے کے بعد اس کے قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے اس اسکیم سے ارکان اسمبلی کو جوڑ دیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے تھوڑی تاخیر ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست میں اراضی سروے جاری ہے جس میں تحصیلدار مصروف ہیں جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے ۔ ان کی جہاں تک اطلاع ہے ۔ بچہ جنم دینے تک درخواستوں کی یکسوئی نہیں ہونے کے الزامات بے بنیاد ہے ۔ پھر بھی ایسے کوئی کیس ہیں تو حکومت کے علم میں لانے کا مشورہ دیا ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ چند درخواستوں کو مسترد بھی کردیا گیا ہے ۔ متعلقہ محکمہ جات کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکتوبات روانہ کرتے ہوئے اس کی درخواست گذاروں کو اطلاع دے ریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT